بھیم آرمی چیف چندر شیکھر پھر گرفتار، طبیعت بگڑنے پر میرٹھ کے اسپتال میں داخل

بھیم آرمی چیف چندرشیکھر کو ایک مرتبہ پھر یوپی پولس نے گرفتار کر لیا ہے، گرفتاری کے بعد ان کی طبیعت بگڑ گئی لہذا انہیں میرٹھ اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ گرفتاری کی وجہ سے دلتوں میں سخت غصہ پایا جا رہا ہے۔

تصویر قومی آواز / آس محمد
تصویر قومی آواز / آس محمد

آس محمد کیف

ملک کے دلتوں کا چہرہ بن چکے بھیم آرمی چیف چندر شیکھر کے خلاف اتر پردیش پولس نے ایک مرتبہ پھر جابرانہ اقدام اٹھاتے ہوئے گرفتار کر لیا ہے۔ پولس نے انہیں دیوبند میں بی ایس پی (بہوجن سماج پارٹی) کے بانی کانسی رام کے یوم پیدائش کے موقع پر نکالی جا رہی ’بہوجن ہنکار ریلی‘ سے گرفتار کیا ہے۔

ریلی میں چندر شیکھر کے ہمراہ ان کے سینکڑوں حامی موٹر سائیکلوں پر موجود تھے، ریلی میں بجنور کے سابق رکن اسمبلی محمد غاضی بھی شامل تھے۔ چندرشیکھر کی گرفتاری کے فوراً ان کی طبیعت بگڑ گئی اسی لئے انہیں میرٹھ اسپتال میں داخل کرایا گیا۔

بھیم آرمی کی بہوجن ہنکار ریلی 11 مارچ کو سہارنپور کے روی داس آشرم سے شروع ہوئی تھی، ریلی میں شامل لوگوں نے دیوبند میں شب گزاری کی تھی۔ چندر شیکھر کے قریبی اور بھیم آرمی کے ضلع صدر کمل سنگھ والیا نے کہا کہ اتر پردیش حکومت ان کی آواز کچلنے کی کوشش کر رہی ہے، جس کا معقول جواب دیا جائے گا، بھیم آرمی گھٹنے نہیں ٹیکے گی۔

کمل سنگھ والیا نے کہا کہ ان کے کچھ ساتھیوں کے ساتھ پولس نے دھکا مکّی بھی کی اور انہیں ڈرایا دھمکایا گیا۔ دیوبند-مظفر نگر روڈ پر روہانا ٹول پر بھی بھاری تعداد میں پولس فورس تعینات کی گئی تھی۔ یہاں بھیم آرمی کا پٹکا گلے میں ڈالے جو بھی کارکن نظر آیا اسے حراست میں لے لیا گیا۔

بھیم آرمی اور ایسوڈیف (آزاد سوشل ڈیولپمنٹ اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن) نے مشترکہ طور پر بہوجن ہنکار ریلی کا انعقاد کیا تھا۔ پروگرام کے مطابق ریلی 11 مارچ کو سہارنپور کے روی داس آشرم سے چل کر رات کے وقت دیوبند پہنچی تھی۔ ریلی کے شرکاء کو آج بیگراج پور میں شب گزاری کرنی تھی۔ اس کے بعد ریلی کو 13 مارچ کو میرٹھ اور 14 مارچ کو غازی آباد پہنچنا تھا اور 15 مارچ کو دہلی کے جنتر منتر پر پہنچنا تھا، جہاں اختتامی تقریب کا انعقاد کیا جانا طے تھا۔

پولس کا کہنا ہے کہ اس ریلی کی وجہ سے دلت نوجوانوں میں اشتعال انگیزی پھیلنے اور نظم و نسق کی صورت حال متاثر ہونے کی خفیہ اطلاعات موصول ہو رہی تھیں، اس لئے چندر شیکھر کو گرفتار کرنا پڑا۔ گرفتاری کے بعد شہر بھر میں بھاری تعداد میں پولس فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔ ایس پی سٹی ونیت بھٹناگر خود پولس فورس کی قیادت کر رہے تھے۔ ایسوڈیف کے رکن وسیم اکرم کے مطابق ’’پولس نے نہایت غیر پیشہ ورانہ رویہ اختیار کیا اور کارکنان کے ساتھ بدسلوکی کی۔ لیکن ہم چندر شیکھر بھائی کی ہمت ٹوٹنے نہیں دیں گے۔‘‘

ایک ہفتہ سے چندر شیکھر آزاد زیادہ فعال نظر آ رہے تھے، چندر شیکھر نے ایک دن قبل ہی ایس پی اور بی ایس پی اتحاد کو بھی انتباہ دیا تھا کہ اگر وہ دلتوں کے ایشوز پر موقف صاف نہیں کرتے تو وہ ان کی حمایت پر از سر نو غور کریں گے، اس کے بعد وہ یہ بائیک ریلی نکال رہے تھے۔

سہارنپور کے ایس ایس پی دنیش نے اس معاملہ میں خبر لکھے جانے تک کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔ انتظامیہ بھیم آرمی کی ریلی کو مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دے رہی ہے۔ اس حوالہ سے بھیم آرمی چیف سمیت کئی رہنماؤں کے خلاف مقدمے درج کیے جانے کی اطلاع ہے۔

فی الحال چندر شیکھر زیر حراست ہیں اور طبیعت خراب ہونے کے سبب وہ میرٹھ کے آنند ہاسپیٹل میں داخل ہیں۔ ان کے ساتھ رہے دیویندر سنگھ کے مطابق چندر شیکھر کا بلڈ پریشن اچانک بڑھ گیا اور انہیں دل کے درد کی شکایت ہوئی۔ اسپتال میں بڑی تعداد میں بھیم آرمی کے حامیوں کا جم غفیر موجود ہے اور بھاری تعداد میں پولس فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔

غور طلب ہے کہ سہارنپور میں گزشتہ دو سال قبل تشدد کے ایک واقعہ میں چندر شیکھر کو اہم ملزم بنایا گیا تھا اور ہماچل پردیش کے ڈلہوزی سے انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔ پولس نے ان کے خلاف قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت کارروائی کی تھی اور انہیں 16 مہینے جیل کی سلاخوں میں قید رہنا پڑا تھا۔ جیل میں جانے کے بعد چندر شیکھر کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا اور وہ دلت نوجوانوں میں ایک ہیرو بن کر ابھرے۔ بھیم آرمی کے ضلع صدر کمل والیا کا کہنا ہے، ’’چندر شیکھر کی مقبولیت سے حکومت خوف زدہ ہے اس لئے ان کی ہمت توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘

Published: 12 Mar 2019, 7:10 PM