بابری مسجد: سماعت کے لئے 23 مارچ کی تاریخ مقرر

کسی فریق کو مفاہمت کے لئے نہیں کہہ سکتے: سپریم کورٹ

مداخلت کی عرضیوں کے علاوہ عدالت عظمیٰ میں ثلاثت کرنے کی بات بھی کہی گئی تھی۔ عارف محمد خان نے بھی ایسی پیشکش کی تھی جس پر سپریم کورٹ کی بنچ نے کہا کہ ’’ہم کسی بھی فریق کو مفاہمت کرنے یا نہیں کرنے کے لئے نہیں کہہ سکتے۔ اگر دونون فریقین کے وکلاء کھڑے ہو کر یہ کہیں کہ ان میں مفاہمت ہو گئی ہے تو ہم اسے ریکارڈ کر لیں گے۔‘‘

سپریم کورٹ نے 23 مارچ کی تاریخ مقرر کی

سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے معاملہ میں اگلی سماعت کی تاریخ 23 مارچ مقرر کر دی ہے۔

پوجا کرنے کا میرا حق مالکانہ حق سے بڑا: سوامی

بابری مسجد معاملہ پر سبرمنیم سوامی کی سپریم کورٹ سے مداخلت کی عرضی خارج ہو چکی ہے اس پر انہوں نے کہا ’’میں نے یہ عرضی اپنے پوجا کرنے کے بنیادی حق کے تحت داخل کی تھی اور یہ مالکانہ حق سے زیادہ اہم ہے۔‘‘

واضح رہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ کی بنچ میں 14 عرضیاں زیر غور ہیں۔ جبکہ مالکانہ حق کے معاملہ میں مختلف وکلاء اور تنظیموں کی جاب سے 23 مداخلت عرضیاں داخل کی گئی تھیں۔ ان میں اپرنا سین اور تیستا سیتلواڑ کی عرضیاں بھی شامل ہیں۔

اب کوئی تیسرا فریق شامل نہیں ہوگا: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ میں بابری مسجد-رام جنم بھومی تنازعہ پر سماعت شروع ہو چکی ہے اور سپریم کورٹ نے سب سے پہلا فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے تمام مداخلت کی عرضیوں کو خارج کر دیا ہے۔ عرضی گزاروں میں سے ایک بی جے پی کے رہنما سبرامنیم سوامی بھی ہیں۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی صدارت والی تین رکنی بنچ اس معاملہ پر سماعت کر رہی ہے۔ عدالت نے مداخلت کی عرضیون کے حوالہ سے تمام فریقوں سے الگ الگ جواب طلب کیے۔ سبرامنیم سوامی نے اپنی عرضی اورجیلٹی کی بات کی تو دوسرے فریقین کے وکلاء نے اس کی مخالفت کی۔

مسلم فریق کے وکیل راجیو دھون نے کہا کہ سوامی کی عرضی پر غور نہ کیا جائے۔ حکومت کی جانب سے پیش اے ایس جی تشار مہتا نے بھی کہا کہ تیسرے فریقین یعنی مداخلت کی عرضیوں پر سماعت کی جانی درست نہیں ہے۔

راجیو دھون نے کہا کہ مداخلت کی عرضی داخل کر کے عدالت میں پہلی قطار میں بیٹھنے کا مطلب یہ نہیں کہ ان کو پہلے سنا جائے۔ اس پر سوامی نے پلٹ کر جواب دیا کہ پہلے یہ لوگ میرے کرتے پاجامے پر سوال اٹھا چکے ہیں اور اب اگلی قطار میں بیٹھنے کی بات کر رہے ہیں۔

گزشتہ سماعت یکم فروری کو ہوئی تھی اور اس وقت مذہبی کتابوں کے ترجمہ کی عدم دستیابی کی بنا پر سماعت ملتوی کردی گئی تھی۔ سماعت کے دوران عرضی گزاروں نے کہا تھا کہ یہ معاملہ لوگوں کے جذبات سے وابستہ ہے لہذا جلد از جلد فیصلہ ہونا چاہئے۔ مقدمہ کی سماعت کے آغاز میں ہی عدالت نے یہ واضح کر دیا تھا کہ اس معاملہ کو صرف اور صرف ایک مالکانہ تنازعہ کی نظر سے دیکھا جائےگا اور کوئی جذباتی اپیل قبول نہیں کی جائے گی۔

عدالت نے کہا تھا کہ اس معاملے میں فریقین کے دلائل سنے جائیں گیں، اس کے بعد عرضی گزاروں کی درخواست پر سماعت ہوگی۔ اس معاملہ میں بنیادی طور پر تین فریقین سنی سینٹرل وقف بورڈ، رام للا اور نر موہی اکھاڑہ ہیں۔ علاوہ ازیں تقریباً ایک درجن فریقین نے اس معاملہ میں عرضیاں پیش کی ہیں۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ سال اگست میں ہونے والی سماعت کے دوران تمام دستاویزات کا ترجمہ پیش کرنے کو کہا تھا ، لیکن فروری میں ہوئی سماعت تک ترجمہ مکمل نہیں ہوسکا تھا۔

سب سے زیادہ مقبول