امت شاہ پارلیمنٹ میں آج شہریت ترمیمی بل پیش کریں گے ،کانگریس کرے گی مخالفت

حکومت بدستور یہ کہہ رہی ہے کہ اس میں ہندوستان کے مفادات کا پورا خیال رکھا گیا ہے لیکن اس بل میں مذہبی بنیاد پر شہریت طے کرنےسے حزب اختلاف اس کو ملک کے بنیادی آئین کے خلاف قرار دے رہی ہے ۔

سوشل میڈیا، فائل تصویر
سوشل میڈیا، فائل تصویر
user

قومی آوازبیورو

آج پارلیمنٹ میں زبردست ہنگامہ دیکھنے کو ملے گا کیونکہ وزیر داخلہ امت شاہ آ ج پارلیمنٹ میں شہریت ترمیمی بل۔ 2019پیش کرنے جا رہے ہیں ۔لوک سبھا میں سخت نوک جھونک کے امکانات ہیں کیوں کہ حکومت ’شہریت ترمیمی بل۔2019‘کو لوک سبھا میں پیش کرنے جارہی ہے۔ جہاں پوراحزب اختلاف اس بل کی مخالفت کر رہا ہے وہیں حکومت کو اپنے اتحای جنتا دل ئونائٹڈ کی بھی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بل کی مخالفت کی سب سے بڑی وجہ اس میں مذہب کی بنیاد پر شہریت دینا اور نہ دینا ہے۔واضح رہے بل میں بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان میں مذہب کی بنیاد پراذیت کی وجہ سے ملک میں پناہ لینے والے غیر مسلموں کو ہندوستانی شہریت دینے کا التزام ہے۔ اصل اپوزیشن پارٹی کانگریس، ترنمول کانگریس کے ساتھ ساتھ آسام میں آل آسام اسٹوڈنٹ یونین اور شمال مشرقی ریاستوں کی مختلف پارٹیوں اور سماجی تنظیمں بھی بل کی زبردست مخالفت کررہے ہیں۔ سال 1985 میں ہوئے آسام معاہدے میں غیرقانونی طور سے رہنے والے غیرملکوں کی شناخت کے لئے 24 مارچ 1971 کی تاریخ طے کی گئی تھی۔

حکومت بدستور یہ کہہ رہی ہے کہ اس میں ہندوستان کے مفادات کا پورا خیال رکھا گیا ہے لیکن اس بل میں مذہبی بنیاد پر شہریت طے کرنےسے حزب اختلاف اس کو ملک کے بنیادی آئین کے خلاف قرار دے رہی ہے ۔کانگریس کی عبوری صدر سونیا گاندھی نے اپنی پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے ساتھ میٹنگ کی جس میں یہ طے کیا گیا کہ پارٹی اس بل کا پارلیمنٹ میں مخالفت کر ے گی۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے پہلے 2014 میں اور پھر 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں اس بل کو پاس کرانے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن یہ گزشتہ مرتبہ منظوری کے بعد لوک سبھا تحلیل ہونے کے ساتھ رد ہوگیا۔ نئے بل میں پاکستان، بنگلہ دیش اور بنگلہ دیش میں مذہب کی بنیاد پر اذیت جھیلنے کی وجہ سے مجبورا یا پناہ لینے آئے ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اور عیسائی کو شہریت دینے کے لئے شہریت ایکٹ 1955 میں ترمیم کا التزام ہے۔

مرکزی حکومت اس بل پر عام رضامندی بنانے کی کوششوں میں ہے اور امت شاہ نے آسام کے وزیراعلی سروانند سونووال، اروناچل پردیش کے وزیراعلی پیما کھانڈو اور میگھالیہ کے وزیراعلی کون راڈ سنگما سمیت شمال مشرق کے سبھی متعلقہ فریقوں کے ساتھ اس معاملے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

ذرائع نے اس بات کی پختہ اشارے دیئے ہیں کہ انر لائن پرمٹ قانون کے تحت آنے والے آدی واسی علاقوں اور آئین کی چھٹی فہرست کے تحت آنے والے علاقوں کو بل کے دائرے سے باہر رکھا جاسکتا ہے۔ گزشتہ ہفتہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے 12 غیر بی جے پی اراکین پارلیمان نے وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر شمال مشرقی ریاستوں کو اس بل کے دائر سے باہر رکھنے کی درخواست کی تھی۔

بی جے پی کا کہنا ہے کہ اس بل کا مقصد پڑوسی ممالک میں پریشان لوگوں کو پناہ دینے کی ’’ہندوستان کی روایت‘ کو آگے بڑھانا ہے۔ پارٹی کے سکریٹری جنرل رام مادھو نے کہا کہ یہ بل اذیت سے دوچار اقلیتی برادریوں کو دی گئی بی جے پی کے عزم کو اظہار کرتا ہے۔