ویڈیو میں ایک خاتون کے ذریعہ پولیس پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد: پولیس ترجمان

پولیس بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے عدالتی حکمنامے پر عمل درآمد کر کے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے اور پولیس کے خلاف بے بنیاد خبریں پھیلانے والوں کے خلاف قانون تحت کارروائی کی جائے گی۔

تصویر آئی اے این یس
تصویر آئی اے این یس
user

یو این آئی

سری نگر: جموں و کشمیر پولیس نے سوشل میڈیا پر وائرل ان ویڈیوز کو من گھڑت قرار دیا ہے جس میں ایک خاتون نے پولیس پر اس کو گھر سے باہر نکالنے کا الزام عائد کیا ہے۔ پولیس کے ایک ترجمان نے اپنے بیان میں مذکورہ خاتون اور اس کے رشتہ داروں کے ویڈیوز میں کئے جانے والے دعوؤں کو بھی بے بنیاد قرار دیا ہے۔

پولیس کا بیان میں کہنا ہے کہ 'سویٹی جان دختر عبدالرشید ڈار ساکن ووین کے کچھ من گھڑت ویڈیوز بعض سوشل میڈیا گروپس پر وائرل ہیں جن میں وہ پولیس پر اس کو گھر سے باہر نکالنے کا الزام لگا رہی ہے'۔ بیان میں کہا گہا کہ مذکورہ خاتون اور اس کے رشتہ داروں کے ویڈیوز میں کئے جانے والے دعوے سراسر بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔


پولیس ترجمان نے بیان میں کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ 14 ستمبر کو سب جج پلوامہ کی طرف سے پولیس اسٹیشن کھریو کو ایک حکمنامہ موصول ہوا جس میں ہدایات دی گئیں کہ سویٹی جان اور اس کے ازدواجی خاندان کے افراد کو درخواست گزار کی جائیداد کے ساتھ اگلی سماعت تک مداخلت کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

بیان میں کہا گیا کہ عدالتی ہدایات کی تعمیل میں اس حکمنامے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے پولیس اسٹیشن کھریو کی ایک ٹیم خواتین پولیس کے ہمراہ جائے موقع پر پہنچی، لیکن وہاں سویٹی جان کے افراد خانہ نے ہنگامہ کھڑا کیا اور پولیس کو اپنی ڈیوٹی انجام دینے سے روک دیا۔


پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ 'تاہم پولیس نے علاقے کے بعض معزز شہریوں کی موجودگی میں عدالتی حکمنامے کو عملی جامہ پہنایا اور شرپسندوں کے خلاف پولیس تھانہ کھریو میں ایک مقدمہ بھی درج کیا گیا'۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے عدالتی حکمنامے پر عمل درآمد کر کے کوئی غلط کام نہیں کیا ہے اور پولیس کے خلاف بے بنیاد خبریں پھیلانے والوں کے خلاف قانون تحت کارروائی کی جائے گی۔ قابل ذکر ہے کہ سویٹی جان اور اس کے شوہر بلال احمد ولد مرحوم عبدالحمید ساکن ووین کے درمیان ازدواجی تنازعہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔