وی ایچ پی کی دھرم سنسد میں بھاگوت کی مخالفت، پوچھا- ’کب ہوگا مندر تعمیر‘

الہ آباد میں وی ایچ پی کی دھرم سنسد میں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کو مخالفت کا سمنا کرنا پڑا ہے، بھاگوت کے خطاب کے بعد کافی دیر تک بھاگوت اور بی جے پی مخالف نعرے بازی کی گئی۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی

قومی آوازبیورو

اتر پردیش کے الہ آباد میں جاری کمبھ کے دوران ویشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کی طرف سے منعقدہ دھرم سنسند (مذہبی اجلاس) میں جمعہ کے روز راشٹریہ سوم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھباگوت کو سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بھاگوت کی تقریر کے بعد سادھو-سنتوں نے جم کر ہنگامہ آرائی کی، اس دوران شامیانہ بھاگوت اور بی جے پی مخالف نعروں سے گونجتا رہا۔ مشتعل سادھو-سنتوں نے ’رام مندر بناؤ یا واپس جاؤ‘ کے نعرے لگائے۔

قبل ازیں، آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے ایودھیا مسئلہ پر مرکزی حکومت کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سنت سماج اور ہندو تنظیموں کو جنم بھومی پر رام مندر سے کم کچھ بھی منظور نہیں ہے۔

وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کی دو روزہ دھرم سنسد کے دوسرے اور آخری دن جمعہ کو بھاگوت نے اپنے خطاب میں کہا کہ انتہائی پرشکوہ ہندو راشٹر بھارت کو کھڑا کرنے کے لئے اجودھیا میں شاندار رام مندر کی تعمیر نہایت ضروری ہے۔ 1990 میں وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) اور شیوسینا نے مندر تعمیرکی تحریک کی شروعات کی تھی جس کا نتیجہ جلد ہی ملک کے سامنے آئے گا۔

انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ میں زیرالتوا اس معاملہ میں مرکزی حکومت کا رویہ اب تک مناسب رہا ہے۔ اس سمت میں سنت سماج اور ہندو وانی تنظیموں کو صبر کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت میں رام مندر کی حمایت کرنے والے کئی لوگ ہیں۔ مریادہ پرشوتم کا بھکت ہونے کے ناطے انہیں قانون اور ضابطہ پر عمل کرنا ہے۔ حکومت رام مندر کی تعمیر میں ساتھ دے گی تو اسے رام کا آشیرواد بھی ملے گا۔

سنگھ کے سربراہ نے کہا کہ سنت سماج اور ہندو تنظیموں کو ایودھیا میں جنم بھومی استھل پر شاندار رام مندر سے کم کچھ بھی منظور نہیں ہے۔ ہم رام جنم بھومی کی ایک بھی انچ بھی زمین نہیں دیں گے۔ مرکز کی موجودہ حکومت نے اس سمت میں صحیح پہل کی ہے۔ اس نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرکے غیرمتنازعہ زمین کو ان کے مالکان کو سونپے جانے کے لئے کہا ہے ۔ اس سے مندر کے گربھ گرہ میں جانے کا راستہ ہموار ہوسکے گا۔

واضح رہے کہ اسی کمبھ کے دوران سادھؤوں کے ایک دھڑے نے پہلے ہی 21 فروری سے ایودھیا میں مندر تعمیر کا اعلان کر دیا ہے۔ اس پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے وی ایچ پی نے اپنی دھرم سبھا کے دوران کہا کہ اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا بلکہ رام مندر کا معاملہ مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔ وی ایچ پی کی طرف سے کہا گیا کہ انہیں مودی حکومت پر پورا بھروسہ ہے۔