علی گڑھ: معصوم بچی قتل معاملہ میں خاتون سمیت 4 گرفتار، وکلاء کا پیروی کرنے سے انکار

واقعہ سے مشتعل علی گڑھ کے وکلا نے قاتلوں کا مقدمہ نہیں لڑنے کا فیصلہ کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ اگر ضلع کے باہر کا بھی کوئی وکیل پیروی کرے گا تو اسے عدالت کے احاطہ میں گھسنے نہیں دیا جائے گا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

لکھنو: اترپردیش میں علی گڑھ کے ٹپل علاقہ میں حیوانیت کی شکار معصوم بچی کے قتل کے سلسلہ میں پولس نے سنیچر کو ایک خاتون سمیت دو لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سماج کو شرمسار کرنے والے اس معاملہ میں اب تک چار لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

دوسری طرف اس واقعہ سے مشتعل علی گڑھ کے وکلا نے معصوم بچی کے قاتلوں کا مقدمہ نہیں لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وکلا کا کہنا ہے کہ اگر ضلع کے باہر کا بھی کوئی وکیل اس معاملہ کی پیروی کرنے کی حماقت کرتا ہے تو اسے عدالت کے احاطہ میں گھسنے نہیں دیا جائے گا۔

پولس ذرائع نے بتایا کہ معصوم کے قتل میں شامل مہند ی حسن اور ایک خاتون کو آج گرفتار کرلیا گیا۔ اس سے پہلے پولس دو ملزمین زاہد اور اسلم کو پہلے ہی گرفتار کر چکی ہے۔ مہندی حسن ملزم زاہد کا بھائی ہے۔ جس دن معصوم کی لاش ملی، اسی دن مہندی فرار ہو گیا۔

علی گڑھ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری انوپ کوشک نے کہا ہے کہ وہ بچی کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا ہے کہ ملزمان کی طرف سے علی گڑھ کا کوئی بھی وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ اگر باہر کا کوئی وکیل مقدمہ لڑنے کی کوشش کرے گا تو اسے بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔