افغانستان کو منفی اثرات سے آزاد رکھنا ضروری : جے شنکر

ایس جے شنکر نے امریکی وزیرخارجہ اینٹونی بلنکن سے دو طرفہ اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ بات چیت کلیدی طور پر علاقائی مسائل بالخصوص افغانستان پر مرکوز تھی جہاں سے امریکی فوج نکل رہی ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: ہندوستان نے آج کہا کہ افغانستان میں امن کے عمل کی بابت تمام فریقوں میں سنجیدگی ہونا ضروری ہے اور ملک کی آزادی اور خود مختاری اسی وقت محفوظ رہ سکتی ہے جب اسے غلط جذبات کے اثرات سے آزاد رکھا جائے۔ وزیرخارجہ ایس جے شنکر نے امریکی وزیرخارجہ اینٹونی بلنکن سے دو طرفہ اجلاس کے بعد یہاں مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ بات چیت کلیدی طور پر علاقائی مسائل بالخصوص افغانستان پر مرکوز تھی جہاں سے امریکی فوج نکل رہی ہے۔

ڈاکٹر جے شنکر نے کہا کہ ’افغانستان کے بارے میں یہ بہت ضروری ہے کہ امن کے عمل کو ہر فریق سنجیدگی سے لے۔ عالمی برادری ایک آزاد، جمہوری، خود مختار اور مستحکم افغانستان دیکھناچاہتی ہے جو خود اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن سے رہے۔ لیکن آزادی اور خود مختاری اسی وقت یقینی بنائی جا سکتی ہے جب یہ عمل غلط جذبات سے آزاد رہے‘۔ وزیرخارجہ کا اشارہ پاکستان کے بارے میں تھا جس کی افغان سرحد پر جنگجوؤں کا مجمع ہے‘۔


وزیرخارجہ نے کہا کہ یکطرفہ ڈھنگ سے کسی کی مرضی کو تھوپنا، فطری طور پر جمہوری نہیں ہوگا اور اس سے استحکام نہیں آئے گا نہ ہی اسے کسی طرح کا قانونی درجہ دیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ دو دہائی کے دوران افغان برادری کو ملنے والی حصولیابیاں بالخصوص خواتین، اقلیتیوں اور تمام سماجی آزادی خود ثبوت ہیں۔ ہمیں اجتماعی طور پر اس کی حفاظت کرنا ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ بات چیت میں خلیجی ممالک، میانمار اور ہند بحرالکاہل کے بارے بھی مذاکرہ ہوا۔ کووڈ کے بارے میں اطلاع دیتے ہوئے ڈاکٹر جے شنکر نے کہا کہ امریکہ کی بائیڈن انتظامیہ نے ہندوستان میں ویکسین پروڈکشن کے لیے خام مال کی سپلائی کو قائم رکھنے کے لیے جس طرح سے جوش دکھایا، وہ قابل تعریف ہے۔ کووڈ کی دوسری لہر میں امریکی تعاون بھی بے مثال رہا ہے۔ اس کے لیے انہوں نے امریکی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔