ایودھیا کے لوگ آج بھی 1992 کی خوفناک یادوں سے کانپ جاتے ہیں

آج ہندوستانی تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جس دن ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو ایک کراری ضرب لگی تھی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی پہچان رکھنے والے ملک پر ایک فرقہ وارانہ نفرت کا داغ لگا تھا۔

By قومی آوازبیورو

1992 دسمبر میں ویسے تو پورے ملک میں خوف اور تناؤ کا ماحول تھا لیکن خود ایودھیا کے لوگوں پر اس وقت کیا گزری تھی اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے کیونکہ وہاں ہزاروں کارسیوک پہنچ چکے تھے اور پہنچنے کا سلسلہ جاری تھا۔ ایودھیا کے ایک آٹو ڈرائیور محمد عظیم کو آج بھی 6 دسمبر کی وہ خوفناک رات یا د ہے جب انہوں نے اپنے کچھ مسلمان ساتھیوں کے ہمراہ اپنی جان بچانے کے خاطر ایک کھیت میں پناہ لی تھی۔ وہ اس وقت محض 20 سال کے تھے۔ عظیم کا کہنا ہے ’’پر تشدد اور اشتعال انگیز کارسیوکوں کی فوج نے بابری مسجد گرا دی تھی جس کے بعد بد امنی اور خوف کا ماحول چھا گیا تھا۔ ہم اتنے ڈر گئے تھے کہ ہمیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ہم کیا کریں‘‘۔ اب چار بچوں کے والد 46 سالہ عظیم پھر یہ دیکھ کر پریشان نظر آ رہے ہیں کہ پھر کچھ سنگھ پریوار کےلوگ اور سیاسی رہنما رام مندر کا مدا اٹھا رہے ہیں اور ایودھیا کے پر امن ماحول کے لئے خطرہ پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ایودھیا کے لوگ 26 سال بعد بھی اس حادثہ سے ابھرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عظیم نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’ہر سال آج کے دن ایک خوف ستاتا ہے۔ ہم ان خوفناک یادوں سے پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں پر رام مندر کے شور سے ہمارے زخم پھر ہرے ہو جاتے ہیں‘‘۔

عظیم بہت غمزدہ ہو کر کہتے ہیں ’’وہ خوفناک رات آج بھی نظروں کے سامنے گھومتی ہے جب سماج کے دو طبقہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔ پوری رات ٹھنڈ میں کھیت میں گزاری۔ صبح کو جاننے والے ایک ٹھاکر خاندان کا دروازہ کھٹکھٹایا اور ان کے گھر میں کچھ روز کے لئے پناہ لی۔ 78سالہ محمد مسلم اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے بےچین ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں ’’اس وقت ہم غیر محفوظ تھے اور آج بھی ہم اس وقت خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں جب باہر سے بھیڑ ہمارے شہر میں آ جاتی ہے‘‘۔

عظیم اور مسلم ہی نہیں بلکہ اکثریتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی 6 دسمبر کے واقعہ کو جمہوریت پر ایک داغ قرار دیتے ہیں۔ متنازعہ زمین کے قریب رہنے والے ڈاکٹر وجے سنگھ اس دن ایودھیا میں ہی تھے اور انہوں نے اس سارے واقعہ اور تشدد کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’بہت خوفناک منظر تھا اب ہم ایک اور حادثہ نہیں دیکھنا چاہتے۔ ہم پر امن ماحول چاہتے ہیں لیکن سیاسی رہنما جذبات بھڑکاتے ہیں۔ 1992 میں اس کو گرانے کے لئے باہر سے بڑی تعداد میں لوگ آئے تھے۔ یہ ایک بڑا حادثہ تھا جو ایودھیا کے عوام کے ذہن میں آج بھی تازہ ہے‘‘۔ سماجی کارکن شبنم ہاشمی کہتی ہیں کہ ایودھیا تاریخی ثقافت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا شہر رہا ہے لیکن 1992 میں میل جول اور آپسی پیار و محبت کے ماحول کو تار تار کر دیا گیا جس کی قیمت ایودھیا شہر اب تک چکا رہا ہے۔

(کنال دت)