یوگی حکومت میں پانی کو ترسے لوگ، 50 نوجوان یوم جمہوریہ پر خود کو کریں گے نیلام

ہاتھرس کے نگلا مایا گاؤں میں پینے کے پانی کی شدید قلت ہے، گاؤں والوں کی کوششوں کے بعد بھی مسئلہ کا حل نہیں نکالا، پریشان گاؤں کے 50 نوجوانوں نے یوم جمہوریہ پر خود کو نیلام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

یوگی حکومت میں پینے کے پانی کی بوند بوند کے لئے لوگ ترس رہے ہیں، حالات یہ ہیں کہ یہاں کے نوجوان نے اب پانی کے لئے خود کو نیلام کرنے کا اعلان کیا ہے، یہ معاملہ اترپردیش کے ہاتھرس ضلع کے نگلا مایا گاؤں کا ہے۔

خبروں کے مطابق ہاتھرس کے نگلا مایا گاؤں میں پینے کے پانی کی قلت ہے، گاؤں والوں کی کافی کوششوں کے بعد بھی حکام نے مسئلہ کا کوئی حل نہیں نکالا، جس سے پریشان گاؤں کے 50 نوجوانوں نے یوم جمہوریہ کے موقع پر خود کو نیلام کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ نیلامی سے جو روپے آئیں گے، اس سے ان کے گاؤں کے ہر گھر میں پینے کا پانی فراہم کریا جائے گا۔

نگلا مایا گاؤں کے لوگوں کی مانے تو پینے کے پانی کے مناسب انتظامات نہ ہونے سے یہاں تقریباً 3 لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہو رہے ہیں، اس مسئلہ کو لے کر متعلقہ حکام سے مل کر کئی بار شکایت کی گئی، لیکن حالات جوں کے توں بنے ہوئے ہیں، یہاں تک پینے کے پانی کی شکایت صدر جمہوریہ ہند سے کی گئی ہے، لیکن وہاں سے بھی کوئی کوئی انہیں راحت نہیں ملی ہے۔

ہاتھرس کے ڈی ایم رام شنكر موریہ نے بتایا کہ انہیں نگلا مایا گاؤں میں پینے کے پانی کے مسئلے کے بارے میں اطلاع ہے، اس معاملے کو لے کر انتظامیہ کے پاس تجویز بنا کر بھیجی جا چکی ہے، ڈی ایم رام شنکر موریہ نے مزید کہا کہ انتظامیہ نے دو الگ الگ تجویز بنا کر بھیجی ہیں، اس میں نگلا مایا گاؤں اور راج نگر گاؤں سمیت 61 دیہاتوں میں پینے کے پانی کا انتظام کرنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے سطح سے جو کام کرنا تھا اسے پورا کیا جاچکا ہے جیسے ہی انتظامیہ سے بجٹ ہمیں ملے گا فوراً کام شروع کر دیا جائے گا۔

next