متھرا میں 2 غیر قانونی بنگلہ دیشی ہندو تارکین وطن گرفتار

ورینداون کوتوالی تھانہ انچارج سنجیو دوبے نے بتایا کہ دونوں کو گزشتہ آٹھ سالوں سے ورینداون میں غیر قانونی طور پر رہنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ دونوں گرفتار شدگان ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

متھرا: اترپردیش پولیس نے متھرا ضلع کے ورینداون علاقے سے ’غیر قانونی‘ طور پر رہنے والے دو بنگلہ دیشیوں کو گرفتار کیا ہے۔ یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شہریت کے ترمیم شدہ قانون کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔ ورینداون کوتوالی تھانہ انچارج (ایس ایچ او) سنجیو دوبے نے بتایا کہ دونوں کو گزشتہ آٹھ سالوں سے ورینداون میں غیر قانونی طور پر رہنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ دونوں گرفتار شدگان ہندو مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ آٹھ سالوں سے یہاں مقیم ہیں۔ خفیہ محکمہ کچھ عرصہ سے ان کی نگرانی کر رہا تھا۔ دونوں گرفتار افراد کے پاس سے جعلی دستاویزات برآمد ہوئےہیں، جن میں غیر قانون طور سے حاصل کیا گیا پاسپورٹ بھی شامل ہے۔ پکڑے گئے دونوں تارکین وطن کی شناخت مانو اور کیشو کے طور پر ہوئی ہے۔ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیے جانے کے بعد انہیں جیل بھیج دیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔

پولیس اس بات کی بھی تفتیش کر رہی ہے کہ جعلی دستاویزات کے ساتھ پاسپورٹ حاصل کرنے میں وہ کس طرح کامیاب رہے۔ جیل جانے سے قبل دونوں گرفتار افراد نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے اور 20 سال قبل ہندوستان آئے تھے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ ورنداون میں آباد ہونے سے پہلے ہندوستان کے مختلف شہروں میں رہے تھے۔

ادھر، سماجی کارکن دھریندر کمار نے کہا کہ ان کے خلاف پولیس کی کارروائی نو ترمیم شدہ شہریت قانون کے حوالہ سے ہونا حیران کن ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرفتار افراد کو دراصل ہندوستانی شہریت کے لئے درخواست دینے کی ہدایت کی جانی چاہیے۔ اترپردیش میں کئی دیگر اضلاع ہوسکتے ہیں، جہاں ہمسایہ ممالک سے غیر قانونی تارکین وطن رہائش پذیر ہوں گے۔ ان میں زیادہ تر بنگلہ دیش کے ہندو ہیں۔ ہمیں اب انہیں پریشان کرنے کے بجائے انہیں شہریت دینے کا عمل شروع کرنا چاہیے۔‘‘

next