اتر پردیش: فرقہ واریت کے خدشہ کو دیکھتے ہوئے 170 شیوسینا کارکنان گرفتار

بڑی تعداد میں شیوسینا کارکنان اَسی گھاٹ سے پانی لے کر مندر کی طرف جا رہے تھے۔ وہ جیسے ہی پانی لے کر علاقہ میں پہنچے تبھی پولس نے انہیں امن و قانون کا حوالہ دیتے ہوئے آگے بڑھنے سے روک دیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

وارانسی: اترپردیش میں وارانسی کے شری کاشی وشوناتھ مندر اور ماں شرنگار گوری کے درشن پوجا کرنے جا رہے شیوسینا کے 170کارکنوں کو پولس نے پیر کے روزگار گرفتار کرلیا۔ یہ قدم انھوں نے کسی بھی طرح کے مذہبی تشدد کے خدشہ کے پیش نظر اٹھایا۔ حالانکہ بعد میں انھیں نجی مچلکہ پرچھوڑ دیا گیا۔

پولس ذرائع نے اس سلسلے میں بتایا کہ بڑی تعداد میں شیوسینا کارکنان اَسی گھاٹ سے پانی لے کر مندر کی طرف جا رہے تھے۔ وہ جیسے ہی پانی لے کر علاقہ میں پہنچے تبھی پولس نے انہیں امن و قانون کا حوالہ دیتے ہوئے آگے بڑھنے سے روک دیا۔ اس پر وہ نہیں مانے تو پولس کو قانونی کارروائی کرتے ہوئے انھیں گرفتار کرنا پڑا۔

پولس کا کہنا ہے کہ جن شیو سینا کارکنان کو پولس نے گرفتار کیا تھا انھیں موقع پر موجود مجسٹریٹ نے نجی مچلکہ کی بنیاد پر چھوڑنے کی ہدایت دی۔ اس درمیان شیوسینا کارکن ارون پاٹھک نے میڈیا کو بتایا کہ گرفتاری کے پیش نظر انہوں نے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور وزیراعظم نریندر مودی کو بھی خط لکھ کرواقف کرایا تھا لیکن ان کی طرف سے کوئی پہل نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ کارکنوں میں اس بات کو لے کر مایوسی ہے کہ انہیں پرانی روایت کے مطابق پوجا پاٹھ کرنے سے پولس روک رہی ہے۔

یہاں قابل ذکر ہے کہ ماں شرنگار گوری مندر شری کاشی وشوناتھ مندر اور گیان واپی مسجد کے نزدیک واقع ہے۔ یہی سبب ہے کہ پولس نے کسی بھی طرح کے فساد یا تشدد کے اندیشہ کے پیش نظر شیو سینا کارکنان کو پانی لے کرمندر کی طرف جانے سے روکا۔ چونکہ پیر کے روز عیدالاضحی کا تہوار تھا تو فرقہ وارانہ کشیدگی کا خدشہ پورے ملک میں ظاہر کیا جا رہا تھا، لیکن کہیں سے کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

Published: 13 Aug 2019, 1:10 PM