باقر نقوی کی نوبیل ادبیات

قدآور تخلیق کاروں کے حالات زندگی کا جامع احاطہ اور خطبات کا ترجمہ شیشہ گری سا نازک کام تھا لیکن یہ ذمہ داری باقر نقوی نے اپنی کتاب ’نوبیل ادبیات‘ میں بخوبی نبھائی۔

احساس ذمہ داری اور کچھ کر گزرنے کی دھن یکجا ہو جائیں تو انسان ایسے کارنامے انجام دیتا ہے جو بظاہر اس کی بساط سے باہر ہوتے ہیں۔ حکیم سعید، ستار طاہر اور سید قاسم محمود ان چیدہ افراد میں سے تھے جو اپنی کارکردگی کے معیار اور پھیلاؤ کے باعث علم و ادب اور تحقیق و تخلیق کے افق پر ہمیشہ ضو فشاں رہیں گے۔ عبدالستار ایدھی کی خدمات کا میدان مختلف تھا، تاہم وہ اپنی جدوجہد، بے غرضی اور خلوص کار کے اعتبار سے ان گنے چنے افراد میں شمار کیے جاتے رہیں گے جنھوں نے زندگی کو مالا مال کیا، لیا کچھ نہیں۔ یہ لوگ زندگی کا بوجھ نہیں تھے، بوجھ اٹھانے والے تھے۔

باقر نقوی، اسی سخت جاں قافلے کے نمایاں فرد ہیں۔ ان کی زندگی استقامت، ریاضت اور جنون سے عبارت ہے جو ان کے پھیلے ہوئے ادبی کارناموں کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ انھوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے کیا اور غزل کے روایتی سانچے کو اظہار کا وسیلہ بنایا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ انھوں نے پرانے موضوعات اور فرسودہ اسلوب ہی پر انحصار کیا۔ ان کے شعری مجموعے ’تازہ ہوا‘، ’مٹھی بھر تارے‘ اور ’موتی موتی رنگ‘ غزل پر ان کی فنی گرفت اور سلیقہ اظہار کے گواہ ہیں۔ انھوں نے ہندی غزلوں کا انتخاب ’گنگا، جمنا اور سرسوتی‘ کے نام سے اردو میں ڈھالا جو ہندی زبان پر ان کی دسترس کا ثبوت ہے۔ انھوں نے افسانے کے میدان میں بھی جوہر دکھائے جس کے نتیجے میں 2014ء میں ان کی کہانیوں کا مجموعہ ’آٹھواں رنگ‘ کے نام سے منظر عام پر آیا۔ یہ تخلیقی کام قدر و قیمت کے لحاظ سے بڑی اہمیت رکھتا ہے لیکن مجھے ان کی شخصیت کی ایک دوسری جہت کا ذکر کرنا ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے افتخار عارف کی رائے پیش کرنا چاہوں گا۔

’’میرے خیال میں اہل قلم کی تخلیقی واردات و تجربات کا بیان، چاہے وہ شعرا ہوں یا افسانہ نگار، سینکڑوں، ہزاروں نقادوں کی عالمانہ نکتہ آفرینیوں اور انشا پروازانہ موشگافیوں پر فوقیت رکھتا ہے۔‘‘

افتخار عارف نے یہ جملہ باقر نقوی کی ’نوبیل ادبیات‘ میں شامل جلیل القدر ادبا و شعراء کی فنی خدمات کے اعتراف میں کیا ہے جس سے اختلاف ناممکن ہے۔ تاہم یہ سوال تو کیا جا سکتا ہے کہ شاعر و افسانہ نگار کو فوقیت کا تاج پہنانے کے لیے نقاد انشا پرداز کو سر برہنہ کرنا کیوں ضروری ہے؟ یہ بات کہنے کی ضرورت باقر نقوی کے ’غیر تخلیقی‘ نثری سرمایے کو دیکھ کر محسوس ہوئی جو اپنی موضوعاتی وسعت اور اعلیٰ اسلوب کے لحاظ سے اتنا عظیم الشان اور بے مثال ہے کہ اس پر اردو فکشن اور شاعری کا بہت سا حصہ قربان کیا جا سکتا ہے۔ تخلیقی اور غیر تخلیقی کی بحث سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ کام کی نوعیت کیا ہے؟ زندگی کو مثبت طور پر متاثر کرنے کی اس میں کتنی اہمیت ہے؟ مجموعی معیار کیسا ہے اور قاری کو گرفت میں لینے کی کس قدر قوت موجود ہے؟ میں باقر نقوی کے متنوع ادبی دائرہ عمل یعنی شاعری و افسانہ نگاری، ہزاروں صفحات پر پھیلے ناولوں اور بہت سی دیگر کتب کے تراجم کو نظرانداز کرتے ہوئے ’نوبیل ادبیات‘ کو زیر بحث لانا چاہوں گا۔ پچھلی صدی کے دوران میں انعام حاصل کرنے والے تمام ادبا و شعرا کی زندگی اور ادبی سفر کی تفاصیل تخلیقی انداز میں پیش کرنا اور خطبات کو ان کے داخلی حسن کے ساتھ اردو کے قالب میں ڈھالنا ایسا کام ہے جس کی اہمیت چند توصیفی کلمات کے ذریعے اجاگر نہیں کی جا سکتی۔ انھوں نے نہ جانے کتنے روز و شب اسی طر احساس اور تخلیقی رویے کے ساتھ گزارے ہوں گے جو ان ادبا و شعرا کی ادبی زندگی کا حاصل تھا۔ یہ بات اپنی جگہ پر اہمیت رکھتی ہے کہ یہ کتاب اسی تپسیا کا ثمر ہے۔ مبین مرزا نے سچ کہا ’’یہ تو وہ کام ہے کہ اگر سنس پکا نہ ہو تو اس راہ کا مسافر چند قدم نہیں چل سکتا، چہ جائیکہ پوری صدی کی مسافت۔‘‘ میں فی الحال اس کام کو اس کے فنی پہلوؤں سے صرف نظر کرتے ہوئے ایک اور زاویے سے دیکھ رہا ہوں۔

باقر نقوی نے مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک پھیلی دنیا کی فکری و ادبی روح کو اس کتاب کی صورت میں پیش کیا ہے۔ کتاب میں شامل خطبات کے ذریعے انتہائی ذہین اور بے پناہ تخلیقی قوتوں کے مالک شعرا و ادبا کے نظریات اور فکری میلانات کو ہی جاننے کا موقع نہیں ملا، ہمیں افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ کی پسماندہ سرزمینوں اور امریکہ، یورپ اور جاپان جیسے ترقی یافتہ ممالک کے ادبی رویوں اور اجتماعی دانش تک رسائی بھی حاصل ہوئی۔ بظاہر تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایک فرد نے اظہارِ تشکر کے طور پر روایتی سی تقریر کی ہوگی۔ ایسا ہرگز نہیں، تقریر کرنے والا عام سا شخص نہیں اور ہر تقریب بھی تقسیم انعامات کی عام سی تقریب نہیں۔ اہل دانش کی اس محفل سے اس شخص نے خطاب کیا جسے کرہ ارض کے ہزارہا شعرا و ادبا میں سے دنیا کے سب سے بڑے اعزاز کا مستحق سمجھا گیا۔ جانب داری کے الزامات پر مبنی تحقیقات کو قابل توجہ سمجھا بھی جائے تو بھی یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ انعام حاصل کرنے والے اہل ادب کی تخلیقات کا دور دور چرچا ہوا۔ دنیا بھر کے قارئین اور ناقدین نے آفاقی صداقتوں اور گہرے فکری شعور کی حامل ان نگارشات کو التفات کے قابل سمجھا۔ میرا ماننا یہ ہے کہ اتنے قدآور تخلیق کاروں کے حالات زندگی کا جامع احاطہ اور خطبات کا ترجمہ شیشہ گری سا نازک کام تھا۔ جمالیاتی پہلو کو برقرار رکھتے ہوئے ادیب و شاعر کے احساسات اور فکری میلانات کو اردو میں سمونا بہت بڑا چیلنج تھا جسے وہی قبول کر سکتا تھا جو زبان و بیان پر قدرت رکھنے کے ساتھ تخلیقی عمل کی پرپیچ راہوں سے گزرا ہو۔ یہ بھی ضروری تھا کہ وہ تخلیق کار کی شخصیت کو پورے طور پر سمجھنے اور فن کارانہ انداز میں بیان کرنے کی اہمیت سے بھی بہرہ ور ہو۔

باقر نقوی نے ہر خاکے کے ابتدا میں ’اعترافِ کمال‘ کے عنوان کے تحت تخلیقی شخصیت کو ایک جملے میں کامیابی سے پیش کیا ہے۔ امریکی ناول نگار ٹونی موریسن کا تذکرہ ملاحظہ کیجیے... ’’جو قوت، بصیرت اور شاعرانہ اشاروں سے مملو خصوصیت رکھنے والے ناولوں کے ذریعے امریکی معاشرے کے ایک اہم رخ کو زندگی بخشتی ہے۔‘‘ یہ مختصر بیان اس ناول نگار سے قاری کی شناسائی کا پہلا مرحلہ ہے۔ اس جملہ کو پڑھنے کے بعد مزید جاننے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ باقر نقوی قاری کی اس خواہش کو یوں بڑھاوا دیتا ہے... ’’اس کا کمال یہ ہے کہ جس زبان کو وہ رنگ اور نسل کی روایتی بیڑیوں سے نجات دلانا چاہتی ہے، اس کے قلب کی گہرائیوں میں اتر کر اپنے خداداد شاعرانہ شکوہ سے قاری کو مخاطب کرتی ہے۔‘‘

میکسیکن شاعر اوکتاویو پاز کے فنی کمالات کا اعتراف یوں کیا ہے... ’’وسیع آفاق رکھنے والی اور پرجوش تاثراتی تحریروں کے لیے جن کی شناخت جمالیاتی ذہانت اور انسان دوست اخلاقی بلندی ہے۔‘‘ پاز کے تعارف کا آغاز اس کی نظم کے اس مصرعے سے کیا ہے... ’دنیا کو دیکھنا اس کو حرف حرف پڑھنے کے مترادف ہے‘۔ مجھے یہاں ہمارے شاعر میر کا بے پایاں فنی و معنوی حسن کا حامل شعر یاد آ گیا:

سرسری تم جہان سے گزرے

ورنہ ہر جا جہان دیگر تھا

باقر نقوی کا کہنا ہے کہ ’’یہ مصرع پاز کے فن کی کلید ہے۔‘‘ میں اس بات کو ذرا مختلف انداز سے بیان کروں گا کہ یہ مصرع پاز کے فن کے در کھولنے کا ہی ذریعہ نہیں، باقر نقوی کی تخلیقی شخصیت کے خوب صورت پہلوؤں تک رسائی کا سبب بھی بنتا ہے۔ انھوں نے پاز کی ایک نظم کے ذریعہ اس کے تخلیقی زاویہ نگاہ کو یوں متشکل کیا ہے... ’’نظم کا کوئی بھی لفظ/ہم ادا نہیں کرتے/ نظم بولتی ہے خود‘‘۔

سب سے زیادہ مقبول