عراق میں تشدد،27 مظاہرین ہلاک، 152 زخمی: رپورٹ

مقامی افسروں کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انتظامیہ نے تشدد والے مقامات پر کرفیو لگا دیا ہے، جہاں مظاہرین اور سلامتی دستوں کے درمیان پُر تشدد جھڑپ ہوئی تھی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

ماسکو:عراق کے دارالحکومت بغداد میں ہوئے تشدد میں تقریباً 27 مظاہرین مارے گئے اور 152 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی میڈیا کے ذرائع نے اس کی اطلاع دی ہے۔ مقامی افسروں کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انتظامیہ نے تشدد والے مقامات پر کرفیو لگا دیا ہے، جہاں مظاہرین اور سلامتی دستوں کے درمیان پُر تشدد جھڑپ ہوئی تھی۔ اس دوران حکومت نے کہا کہ انہوں نے پُرتشدد ریلیوں کو روکنے کے لئے فوج کی قیادت میں ایک گروپ تشکیل دیا ہے۔

دھیر کار صوبے کے نصیریاہ شہر میں حال ہی میں پُر تشدد مظاہرے ہوئے ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق موتھانا صوبے کا سما واہ شہر بھی بدامنی کا شکار ہے اور وہاں بھی لوگ مظاہرے کررہے ہیں۔ اس دوران مظاہرین نے بغداد سے دیالا صوبے جانے والی سڑک کو روک دیا ہے۔


گزشتہ بدھ کو جنوبی عراق میں حالات تشویش ناک رہے اور انتظامیہ کو نجف صوبے میں کرفیو لگانا پڑا جہاں مظاہرین نے ایران ہائی کمیشن کی عمارت میں آگ لگادی۔ صوبے کے گورنر کے مطابق نجف میں تشدد میں 47 پولس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ ایران اور عراق نے ہائی کمیشن کی عمارت پر حملے کی مذمت کی ہے۔

واضح رہے کہ بدعنوان، روزگارسمیت دیگر مطالبات کے سلسلے میں گزشتہ اکتوبر سے عراق میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں جس میں اب تک 350 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوچکی ہے اور 15 ہزار لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔