جنوبی افریقہ: کورونا وائرس کی ٹیکہ کاری کے بعد ہونے والی اموات کی تحقیقات شروع

اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بوٹیمیلو سیمیٹے نے کہا کہ "ہمیں یہ طے کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے جو واقعات دیکھے ہیں ان کا تعلق واقعی ویکسین سے ہے یا کسی اور چیز سے۔ یہ بہت جامع مطالعہ ہے"۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

جوہانسبرگ: ہیلتھ پروڈکٹس ریگولیٹری اتھارٹی آف جنوبی افریقہ (ایس اے ایچ پی آر اے) نے کورونا وائرس کا ٹیکہ لگنے کے بعد ملک میں 28 افراد کی موت کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ اتھارٹی نے کہا ہے کہ اس بات کا تعین کرنے کے لئے تحقیقی مطالعہ کیا جائے گا کہ آیا ٹیکے لگوانے کے بعد ہونے والی اموات کا ٹیکہ کاری سے براہ راست رابطہ ہے یا نہیں۔ جانسن اینڈ جانسن اور فائزر کمپنی کی کورونا ویکسین ملک کے عوام کو دی جا رہی ہے۔

اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، بوٹیمیلو سیمیٹے نے جمعرات کے روز کہا کہ "ہمیں یہ طے کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے جو واقعات دیکھے ہیں ان کا تعلق واقعی ویکسین سے ہے یا کسی اور چیز سے۔ یہ بہت جامع مطالعہ ہے"۔ ایس اے ایچ پی آر اے نے بدھ کے روز قانون سازوں کو بتایا کہ فائزر یا جانسن اینڈ جانسن کی ویکسین لینے والے لوگوں میں انفیکشن کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ اس کے بعد ان اموات کی تفتیش شروع کردی گئی۔


قومی محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں تقریباً 55 لاکھ افراد کو کورونا وائرس کے ٹیکے لگائے گئے ہیں۔ ان میں سے 10 لاکھ سے زیادہ افراد کو جانسن اینڈ جانسن کی ویکسین لگائی گئی ہے اور بقیہ 45 لاکھ افراد کو فائزر کے ٹیکے لگے ہیں۔ واضح رہے کہ جنوبی افریقہ میں کورونا وائرس کے 2327472 متاثرین درج ہوئے ہیں جو براعظم افریقہ کے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں سے ایک ہے اور ملک میں اب تک 68192 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔