ایران سے امریکہ مذاکرات کا خواہاں

خامنہ ای کے مشیر کے مطابق امریکہ نے ایران کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کی درخواست کی ہے، حالا نکہ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکہ کی طرف سے کس سطح پر ایران سے مذاکرات کی پیشکش آگے بڑھائی گئی ہے۔

امریکہ کی بات چیت شروع کرنے کے لیے ایران سے درخواست
امریکہ کی بات چیت شروع کرنے کے لیے ایران سے درخواست

ڈی. ڈبلیو

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے ایک انتہائی اہم مشیر علی شام خانی نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے رابطہ کیا تھا۔ شام خانی نے مزید واضح کیا کہ یہ رابطہ اُن کے ساتھ اُن کے افغانستان کے دورے کے دوران ہوا، جو گزشتہ برس دسمبر میں کیا گیا۔ انہوں نے اپنے اس بیان میں یہ واضح نہیں کیا کہ کس امریکی اہلکار نے امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت شروع کرنے کی درخواست کی تھی۔

علی شام خانی ایرانی سپریم لیڈر کے قریبی مشیر ہونے کے علاوہ اُن کی تشکیل کی گئی قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری بھی ہیں۔ انہوں نے نیوز ایجنسی تسنیم کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کابل میں قیام کے دوران بات چیت شروع کرنے کی امریکی درخواست موصول ہوئی تھی۔ علی شام خانی کا یہ بیان ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم نے رپورٹ کیا ہے۔

دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ کی ایک خاتون ترجمان نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ یہ رپورٹ مصدقہ قرار نہیں دی جا سکتی۔ اس خاتون ترجمان نے یہ ضرور واضح کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ قومی اور سیکورٹی معاملات پر مذاکرات شروع کرنے کے لئے کھلی پالیسی پر یقین رکھتے ہیں۔

یہ امر اہم ہے کہ گزشتہ برس مئی سے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی و تناؤ اُس وقت بڑھ گیا تھا، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سن 2015 کی جوہری ڈیل سے علیحدگی اختیار کی تھی۔ اس علیحدگی کے بعد امریکا ایران پر کئی اقتصادی پابندیوں کا نفاذ کر چکا ہے۔ امریکا ان پابندیوں کے نفاذ کے بعد اس کوشش میں ہے کہ ایرانی خام تیل کی بین الاقوامی فروخت کو انتہائی محدود کر دیا جائے۔

یہ امر اہم ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ خلیج فارس خطے کے عرب ممالک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے یمنی حوثی ملیشیا کو ہر طرح کی امداد جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسی طرح واشنگٹن کا خیال ہے کہ امریکا عراقی شیعہ عسکری گروپوں کی حمایت کرنے کے علاوہ شام میں اسد حکومت کا حلیف ہے اور اس عمل سے وہ ایک طرف لبنان کی شیعہ انتہا پسند تنظیم حزب اللہ کو فعال کیے ہوئے ہے تو دوسری جانب اسرائیل مخالف پالیسی بھی اپنائے ہوئے ہے۔