دنیا بھر میں انسانی جانیں ضائع، اومیکرون کو 'ہلکا' کہنا ہماری غلطی تھی: عالمی ادارہ صحت

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس نے کہا کہ ریکارڈ تعداد میں لوگ کورونا کے نئے ویرینٹ سے متاثر ہو رہے ہیں اور متعدد ممالک میں اس کی رفتار ڈیلٹا ویرینٹ سے زیادہ تیز ہے

عالمی ادارہ صحت / آئی اے این ایس
عالمی ادارہ صحت / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

جنیوا: دنیا بھر میں کورونا وائرس کے ایمیکر ن ویرینٹ کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ تاہم، اومیکرون ویرینٹ کے اس ڈیلٹا سٹرین سے کم شدید ہونے کی اطلاع ہے، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں لاکھوں اموات ہوئیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کوویڈ 19 کے اومیکرون ویرینٹ کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے جمعرات کو کہا کہ اومیکرون دنیا بھر میں لوگوں کو ہلاک کر رہا ہے اور اسے ہلکے سے نہیں لینا چاہیے۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس نے کہا کہ ریکارڈ تعداد میں لوگ کورونا کے نئے ویرینٹ سے متاثر ہو رہے ہیں اور متعدد ممالک میں اس کی رفتار ڈیلٹا ویرینٹ سے زیادہ تیز ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اسپتال تیزی سے بھر ہے ہیں۔

ٹیڈروس نے ایک پریس کانفرنس سے کہا، ’’خواہ اومیکرون ڈیلٹا سے کم شدید نظر آتا ہو، خاص طور پر ان لوگوں کے لئے جنہیں ویکسین لگائی جا چکی ہے۔ تاہم، اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کی ہلکے ویرینٹ کے طور پر درجہ بندی کی جائے۔"


انہوں نے واضح کیا، ’’سابقہ ویرینٹس کی طرح اومیکرون بھی لوگوں کو ہسپتال پہنچا رہا ہے اور یہ لوگوں کی جان لے رہا ہے۔ دراصل کیسز کی سونامی اتنی شدید اور تیز ہے کہ اس سے دنیا بھر میں صحت کے نظام کو نقصان پہنچ رہا ہے۔‘‘

عالمی سطح پر ڈبلیو ایچ او کی جانب سے جاری کوویڈ 19 کے اعداد و شمار کے مطابق 27 دسمبر سے 2 جنوری کے ہفتے کے دوران گزشتہ ہفتے کے مقابلہ انفیکشن کے نئے کیسز میں 71 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔