بی سی سی آئی پر بھی بی جے پی قابض!

بی جے پی تنگ نظریات والے حاسد لوگوں کی تنظیم ہے۔ ورنہ جے شاہ کے کھاتے میں کوئی حصولیابی نہیں، سوائے اس کے کہ وہ امت شاہ کے بیٹے ہیں اور ایک مبینہ اسکینڈل میں ان کا نام آیا ہے، جس کی جانچ تک نہیں ہوئی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

نواب علی اختر

آئینی اداروں کے ساتھ ہی بڑے اور اہم سرکاری اداروں پر’قبضہ‘ کرنے کی خواہش رکھنے والی اپنی نظریاتی تنظیم آر ایس ایس کے ’ہندوراشٹر‘ کے خواب کو پورا کرنے کی تگ ودو میں مصروف حکمراں بی جے پی نے اب کھیل سے وابستہ دنیا کے تقریباً سب سے امیر ادارے بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ( بی سی سی آئی) کو بھی اپنی ’گرفت‘ میں لے لیا ہے۔ اب تک یہی ایک ادارہ تھا جو حکومت کی ’جی حضوری‘ سے آزاد کہا جاسکتا تھا مگر آئندہ شاید ایسا نہیں ہوسکے گا کیونکہ اب یہ ادارہ بھی سیاسی چابک کے نیچے آتا نظر آرہا ہے اور اس کا منہ سیدھے مغربی بنگال کی طرف رکھا گیا ہے، جہاں 2021 میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور اس ریاست میں بی جے پی کسی بھی حالت میں اقتدار پرقابض ہونا چاہتی ہے اور اس کے لئے وہ ہرطرح کے جوڑ توڑ بھی کر رہی ہے مگر ان سب میں اب تک بی جے پی کو ناکامی ہی ہاتھ آئی ہے۔ تازہ واقعات بھی اسی کی ایک کڑی ہوسکتے ہیں۔

چند روز قبل کی بات ہے جب خبر آئی کہ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سوربھ گنگولی طاقتور بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کے صدر بنا دیئے گئے ہیں۔ اب ہندوستان میں کرکٹ کو تو سوربھ گنگولی ہی چلائیں گے، یہ ایک سیاسی داؤ بھی ہے جس کا خاکہ مرکزی وزیرداخلہ اور بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے تیار کیا ہے جو سوربھ گنگولی کو (ترنمول کانگریس کی سربراہ اورمغربی بنگال کی لگاتار دوسری بار بننے والی وزیراعلیٰ) ممتابنرجی کو چیلنج دینے کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔

مغربی بنگال کی جنگ میں ’دادا بنام دیدی‘ کی اپنی حکمت عملی کی کامیابی کو لے کر امت شاہ مکمل طور پر پُراعتماد ہیں۔ اس موقع کو انہوں نے غنیمت سمجھا اور گزشتہ ہفتے دہلی واقع اپنی رہائش گاہ پر سوربھ گنگولی کے ساتھ ایک مختصرملاقات بھی کر ڈالی۔ اس ملاقات میں ہوئے’سمجھوتے‘ کے فوری بعد انہوں نے اپنے معتمد خاص آسام کے لیڈر ہیمنت بسوا سرسا کو ممبئی روانہ کردیا جہاں سرسا نے فون کر کے کئی لوگوں کی گھنٹیاں بجائیں اور یقینی کرا دیا کہ بی سی سی آئی کے نئے ’باس‘ سوربھ گنگولی ہوں گے، اس لئے اس ادارے کے’انتخابات‘ میں سبھی امیدوار پیچھے ہٹ جائیں۔

یہ خبرعام ہونا تھی کہ دنیائے کھیل میں ایک قسم کی کھلبلی مچ گئی۔ یہ تو ہونا ہی تھا کہ کیونکہ اس ادارے کا باس بننا ہر ایک کا خواب ہوتا ہے۔ ملک کے کھیل مداحوں کو تب زیادہ حیرت ہوئی کہ ملک میں کئی عظیم کھلاڑی موجود ہیں اس کے باوجود امت شاہ کے بیٹے جے شاہ کو بی سی سی آئی کا سکریٹری بنا دیا گیا اور ارون دھومل بی سی سی آئی کے خزانچی بن گئے۔ ارون دراصل بی سی سی آئی کے اعلیٰ عہدیدار رہ چکے موجودہ مرکزی وزیر اور بی جے پی لیڈر انوراگ ٹھاکر کے چھوٹے بھائی ہیں۔ اس طرح سے اب ہندوستانی کرکٹ پر بھی بی جے پی کا قبضہ ہو گیا ہے۔

غورکرنے والی بات یہ ہے کہ کنبہ پروری کے حوالے سے بی جے پی اب تک اپنی مخالف سماجوادی پارٹی، بی ایس پی، آر جے ڈی وغیرہ کو نشانہ بنا کر اپنی سیاست کرتی رہی ہے مگراب اسی راہ پرچلتے ہوئے بی جے پی کے صدر امت شاہ نے اپنے بیٹے جے شاہ کو بی سی سی آئی کا سکریٹری بنانے کے لئے پیش کردیا۔ اس کے علاوہ بی سی سی آئی کے صدر رہ چکے بی جکے پی لیڈر انوراگ ٹھاکر کے چھوٹے بھائی ارون دھومل بی سی سی آئی کے خزانچی بنائے گئے ہیں۔ یہ دونوں بی جے پی لیڈر پریم کمار دھومل کے بیٹے ہیں۔

بی جے پی کے وجود میں آئے 40 سال ہوئے ہیں لیکن بی جے پی والے چاہتے ہیں کہ موتی لال نہرو کے بابا کے زمانے تک ملک میں جو کچھ بھی ہوا ہے، سب کا کریڈٹ اسے ہی مل جائے۔ شاہ جی، آپ کا بیٹا بی سی سی آئی سکریٹری بن گیا، لیکن ملک میں ہزاروں باپ ایسے بھی ہیں جو اپنے اعلیٰ تعلیم یافتہ بیٹوں کے گزر بسر کے لئے معمولی سے معمولی نوکری کی تلاش میں دردر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ آپ کو ان بیٹوں کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔

مجموعی طورپر سمجھا جائے تو جو برائیاں مخالف پارٹیوں میں تھیں، بی جے پی ان سب برائیوں کو ہمالیہ بن گئی ہے۔ اسے ملک کے بھلے برے سے کوئی مطلب نہیں ہے، بی جے پی تنگ نظریات والے حاسد لوگوں کی تنظیم ہے۔ ورنہ جے شاہ کے کھاتے میں کوئی حصولیابی نہیں ہے، سوائے اس کے کہ وہ امت شاہ کے بیٹے ہیں اور ایک مبینہ اسکینڈل میں ان کا نام آیا ہے، جس کی جانچ تک نہیں ہوئی۔ جو بھی ہو آپ کو یہی منتر جپنا چاہیے کہ مخالف پارٹیوں میں بہت کنبہ پروری ہے۔ اس کو اکھاڑ کر وہاں پر بی جے پی کا کنبہ پروری کا جھنڈا گاڑ دینا ہے۔ بقول میڈیا ’یہ بھی بی جے پی کا ماسٹر اسٹروک ہے اور آپ کو اس پر فخر کرنا ہی ہے۔

بہرحال کوئی کچھ بھی کہے موجودہ حکومت میں کنبہ پروری کو طاقت بخشنے والے’ دیش بھکتوں‘ پر انگلی اٹھانا جرم ہے اس لئے زبان بند رکھنے میں ہی عافیت ہوسکتی ہے بصورت دیگر آزاد ہندوستان میں اظہار رائے کو بھی غداری کہا جائے گا جیسا اب تک ہوتا آیا ہے۔ میڈیا کے ایک طبقہ کی جانب سے بی سی سی آئی کے انتخاب کو معمول کی کارروائی بتایا جا رہا ہے مگرسیاسی ماہرین کی مانیں تو اس پوری کارروائی کے مرکز میں2021 میں ہونے والے مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات ہیں۔

سی اے بی (کرکٹ ایسوسی ایشن آف بنگال) کے صدرسوربھ گنگولی ہمیشہ سے اپنے پتے کھولنے سے پرہیز کرتے رہے تھے مگرگزشتہ اتوارکو پورا معاملہ خود بخود صاف ہوگیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گنگولی صرف 10ماہ تک ہی بی سی سی آئی کے صدر عہدے پر رہیں گے اور اس کے بعد بی سی سی آئی کے آئین کے مطابق گنگولی کو تین سال کے ’کولنگ پیریڈ‘ پر جانا ہوگا۔ اس کے بعد سے ہی قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہوگیا تھا کہ ان کا اگلا پڑاؤ سیاست ہوسکتا ہے۔ خبریں ہیں کہ گنگولی کو بی جے پی مغربی بنگال میں اپنا سیاسی چہرہ بناسکتی ہے۔

گنگولی کا مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے لئے بی جے پی کی مہم میں شامل ہوکر نئی پاری شروع کرنے کا صحیح وقت ہوگا۔ اس طرح بی جے پی کو ریاست میں ایک عدد چہرہ بھی مل جائے گا جس کے لئے وہ اب تک ترستی رہی ہے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر مکل رائے جوسال 2017 میں ممتابنرجی کی ہی پارٹی سے ٹوٹ کر آئے تھے، صوبے میں بی جے پی کو کھڑا کرنے کی سخت جدوجہد کر رہے ہیں اور اپنی پرانی پارٹی سے کئی چہروں کو بی جے پی میں لے کر بھی آئے ہیں لیکن ان کے پاس وژن اورکرشمہ نہیں ہے جو بی جے پی کو اقتدارکی ضمانت دے سکے۔