روہنگیا اور ابھجیت ایّر متر پر عدالت عظمیٰ کے فیصلوں نے کٹر راشٹرواد کو فروغ دیا!

سات روہنگیا لوگوں کی جبراً میانمار واپسی کو جس طرح حکمراں پارٹی نے ایک فتح اور بہادری کا کارنامہ بتایا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان میں انسانی زندگی کی قدر کتنی گھٹ گئی ہے۔

By اپوروانند

نئی قیادت میں سپریم کورٹ کے پہلے دو فیصلے مایوس کن رہے ہیں۔ 7 روہنگیا مسلمانوں کو واپس میانمار بھیجنے کے سرکاری فیصلے میں مداخلت سے انکار اور ابھجیت ایّر متر کی ضمانت کی عرضی خارج کرنے کے فیصلے سے ملک میں کٹر راشٹرواد کو تو فروغ ملے گا ہی، اظہار رائے کی آزاد کی پہلے سے ہی محدود ہوتی جگہ مزید محدود ہو جائے گی۔

روہنگیا مسلمانوں کو واپس میانمار بھیجنے کے سرکاری فیصلے کے خلاف عدالت سے اپیل میں جب پرشانت بھوشن نے کہا کہ پناہ گزینوں کی حفاظت آئین کے مطابق عدالت کی ذمہ داری ہے تو انھیں ججوں نے کہا کہ عدالت کو اپنی ذمہ داری معلوم ہے اور انھیں یاد دلانے کی ضرورت نہیں۔ پرشانت کو بھی یہ بات معلوم ہے لیکن ابھی ہندوستان میں روہنگیا مسلمانوں کو جس طرح دہشت گرد قرار دے کر انھیں نکال باہر کرنے کو لے کر ایک جارحانہ مہم چل رہی ہے وہ صرف غیر قانونی طریقے سے ہندوستان میں گھس آئے لوگوں کو واپس بھیجنے کا معاملہ نہیں ہے۔ بنگلہ دیشی کے ساتھ روہنگیا اب دہشت گرد درانداز کے لیے ایک سیاسی لفظ ہے جس کا استعمال بی جے پی لیڈران گزشتہ چار سال سے کر رہے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ ہندوستان میں کوئی 14 ہزار سے 40 ہزار کے درمیان روہنگیا مقیم ہیں۔ حکومت ہند اور حکمراں پارٹی ایک حوا کھڑا کر رہی ہے کہ ان سبھی جلاوطن لوگوں میں دہشت گرد چھپے بیٹھے ہیں۔ وہ ہندوستان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی سازش میں مبتلا ہیں۔ اقوام متحدہ اور ہندوستان میں کام کرنے والی حقوق انسانی اداروں نے بار بار بتایا ہے کہ میانمار میں کیوں ان کی جان خطرے میں ہے اور کیوں ان کا واپس جانا قطعی محفوظ نہیں ہے؟ یہ بات اسی سے ظاہر ہے کہ امن کے لیے نوبل انعام حاصل کر چکیں اور اپنی عوام کے لیے جمہوریت کی جدوجہد کر رہی لیڈر اَنگ سو کی ’روہنگیا‘ لفظ اپنے ہونٹوں پر لانا بھی نہیں چاہتیں۔ ان کی حکومت ان کے وجود سے ہی انکار کرتی ہے۔

میانمار کے رخائن میں روہنگیا مسلمانوں پر ہوئے ظلم کی کہانیوں سے پوری دنیا واقف ہے۔ لاکھوں روہنگیا بنگلہ دیش جیسے چھوٹے سے ملک میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ وہاں بھی وہ غیر انسانی حالات میں ہی رہ رہے ہیں۔ اس کے باوجود اگر وہ گھر نہیں لوٹنا چاہتے تو کیا اس سے یہ صاف نہیں کہ وہ واپسی میں کس قسم کا خطرہ دیکھتے ہیں!

ان ساری باتوں کو نظر انداز کر کے صرف یہ کہنا کہ عدالت نے میانمار حکومت کے اس بیان کو دیکھا ہے کہ وہ ان 7 لوگوں کو اپنا شہری مانتی ہے، مسئلہ کے بڑے اور زیادہ اہم پہلو کو نظر انداز کرنا ہے۔ اور وہ ہے میانمار میں روہنگیا لوگوں کے ساتھ ہو رہا سلوک۔

1982 میں ہی میانمار کی حکومت نے شہری کے طور پر ان کی قبولیت ختم کر دی تھی۔ وہ خود انھیں غیر قانونی مانتی رہی ہے۔ رخائن میں ان کے خلاف ہوئے سرکاری حملے، قتل اور عصمت دری کے بعد روہنگیا پناہ گزینوں کا یہی کہنا ہے کہ انھیں اپنے ملک کی شہریت چاہیے اور حفاظت کی گارنٹی بھی۔ اقوام متحدہ نے بار بار میانمار کی حکومت کو قتل عام کا مجرم ٹھہرایا ہے۔

پوری دنیا میں اسے کتنی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، اس کا ثبوت ہے کناڈا کے ذریعہ اَنگ ساں سو کی کو دی گئی اعزازی شہریت ختم کرنے کا فیصلہ۔ کناڈا کی پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ اس کی امید تھی کہ سُو کی ان ستائے جا رہے لوگوں کے حقوق کے لیے آگے آئیں گی، لیکن وہ اسے جائز ٹھہرانے میں مصروف ہو گئی ہیں۔ اس اعزاز کو واپس لیتے ہوئے کہا گیا کہ ہم یہ صاف طور پر بتانا چاہتے ہیں کہ اگر آپ قتل عام میں شامل ہیں یا اس کے معاون ہیں تو کناڈا میں آپ کا استقبال نہیں ہے۔

ہندوستان کناڈا کے ٹھیک برعکس شہریت سے محروم کر دی گئی اور ایک قتل عام سے بچ کر پناہ مانگتی آبادی کے خلاف غلط تشہیر میں شامل ہو گیا ہے۔ ساری ریاستوں کو انتباہ بھیجا جا رہا ہے کہ وہ روہنگیا لوگوں پر نظر رکھیں اور ان کی شناخت کریں۔

7 روہنگیا لوگوں کی جبراً واپسی کو بھی جس طرح حکمراں پارٹی نے ایک فتح اور بہادری کا کارنامہ بتایا ہے اس سے بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان میں انسانی زندگی کی قدر کتنی گھٹ گئی ہے۔ ایک موقع تھا کہ سپریم کورٹ تکنیکی اور قانونی درستگی سے آگے جا کر ملک کو اس انسانیت کی یاد دلا پاتا۔ وہ موقع اس نے گنوا دیا۔

اسی طرح جب ججوں نے یہ کہا کہ ابھجیت ایّر متر کے لیے سب سے محفوظ جگہ جیل ہوگی، تو اس بیان کی سختی حیران کرنے والی تھی۔ یہ کہنا کہ کونارک کی ایک تصویر کے ساتھ ایّر-متر کا ایک مذاقیہ تبصرہ مذہبی جذبات کو مشتعل کرتا ہے، ایک بار پھر گزشتہ دنوں مذہبی جذبات کے ٹھیس پہنچنے کی آڑ میں اظہارِ رائے کی آزادی پر کیے گئے حملوں کو ایک طرح سے طاقت ہی دینا ہے۔ کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ مِتر نے مذاق میں حد کا دھیان نہیں رکھا اور وہ بھول گئے کہ ابھی ملک میں ہنسی مذاق کی اجازت نہیں ہے، لیکن یہ کہنا کہ اس سے مذہبی جذبات مشتعل ہو سکتے ہیں، کچھ زیادتی ہے۔

یہ اتفاق نہیں کہ ایّر متر کے خلاف بڑی عدالت کے اس بیان کی خبر کے ساتھ یہ خبر بھی شائع ہے کہ کنّڑ دانشور پروفیسر کلبرگی کے قتل کے ملزمین نے کہا ہے کہ ان کی باتوں کو ہندو مخالف مان کر ان کا قتل کیا گیا۔ کلبرگی نے اننت مورتی کے بیان کا حوالہ دیا تھا کہ دیوی کی مورتی پر پیشاب کرنے سے دیوی کا غصہ نہیں پھوٹ پڑے گا۔ یہ بیان یقینا کافی سخت ہے لیکن اس سے بھی تلخ باتیں ہندوستان میں پہلے لکھی جا چکی ہیں۔ کبیر کے نام سے منسوب مندروں اور مسجدوں پر طنز کرتے اشعار کے بارے میں عدالت کیا کہے گی؟

یہ سچ ہے کہ آج سے سو سال پہلے یا پچاس سال پہلے بھی جو کہنا محفوظ تھا، وہ اب نہیں رہ گیا ہے۔ یہ ہمارے آگے بڑھنے کی نشانی ہے یا زوال کی؟ ایّر-متر کے تبصرہ کے لیے انھیں کچھ بھی کہا جا سکتا تھا، لیکن یہ کہہ کر کہ ان کی جگہ جیل ہے، عدالت نے مذاق اور طنز کی صحیح جگہ بتا دی ہے!