کیا حقیقت میں امت شاہ چانکیہ ہیں ؟

پانچ اسمبلیوں کے انتخابی نتائج نے جہاں بی جے پی اور وزیر اعظم کو شیشہ دکھایا ہے وہیں انہوں نے امت شاہ کی چانکیہ والی شبیہ کی بھی قلعی کھول دی ہے

سید خرم رضا

پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج کے بعد سے جس ایک شخص کے بیان کا سب کل سے انتظار کر رہے ہیں وہ شخص اور کوئی نہیں بی جے پی صدر امت شاہ ہیں ۔ انتخابی حکمت عملی کا چانکیہ کہے جانے والے امت شاہ کی وہ جادوئی حکمت عملی ان پانچ ریاستوں میں کہیں بھی نظر نہیں آئی اور انہوں نے اس پر اپنی کسی رائے کا اظہار بھی نہیں کیا۔ امت شاہ جب سے مودی کے ساتھ ہیں یہ ان کی اب تک کی سب سے کراری شکست ہے ۔

ایک بڑا سوال یہ ہے کہ کیا وہ حقیقت میں انتخابی حکمت عملی کے چانکیہ ہیں ؟ میری نظر میں ایسا بالکل نہیں ہے لیکن اس حقیقت سے بھی کوئی منکر نہیں ہو سکتا کہ گجرات میں مودی کے وزیر اعلی بننے کے بعد جتنے بھی ریاستی انتخابات ہوئے اس میں مودی ہی کامیاب ہوئے اور ان انتخابات کی باگ ڈور امت شاہ کے ہاتھ میں رہی اور سال ۲۰۱۴ میں جب مودی ملک کے وزیر اعظم بنے تو اس کے بعد سے بھی ہندوستان کی بیشتر ریاستوں میں بی جے پی کامیاب ہوئی اور یہ سب ان کی صدارت میں ہوا مگر اس کے با وجود میرا ماننا ہے کہ چانکیہ جیسی ان میں کوئی بات نہیں ہے ۔ وہ محنتی ضرور ہو سکتے ہیں لیکن چانکیہ نہیں ۔

جب مودی گجرات کے وزیر اعلی بنے تو اس میں امت شاہ کا کوئی دخل نہیں تھا اور اس وقت کے مودی کے ساتھی جن کا ان کو وزیر اعلی بنانے میں دخل تھا وہ آج مودی کے ساتھ نہیں ہیں ۔ گجرات جیسی ریاست میں ہندوؤں کی حفاظت کے نام پر اقتدار میں بنے رہنا کوئی زیادہ مشکل کام نہیں تھا اور دوسری جانب ریاست کی مرکزی پارٹی کانگریس کا بنیادی ڈھانچہ بکھر رہا تھا اس لئے وہاں کسی حکمت عملی کی ضرورت نہیں تھی ۔ مودی جس وقت وزیر اعظم بنے اس وقت بی جے پی کی قیادت راج ناتھ سنگھ کے پاس تھی اور بی جے پی کے کئی قدآور رہنما جیسے لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی وغیر ہ قومی اور بی جے پی سیاست میں سرگرم تھے ۔ امت شاہ کو جب بی جے پی کی کمان سونپی گئی تو اس کے بعد جن ریاستوں میں ان کی قیادت میں بی جے پی کو کامیابی ملی ان میں زیادہ تر کانگریس کی حکومتیں تھیں اور عوام جہاں تبدیلی چاہتے تھے وہیں ان کو وزیر اعظم کی شکل میں مودی سے زیادہ امیدیں بندھ گئی تھیں اس لئے کانگریس سے ناراضگی اور تبدیلی کی لہر میں بی جے پی کو کامیابی ملتی چلی گئی ۔ اس کامیابی میں شاہ کی کوئی چانکیہ نیتی نہیں تھی اور جس چیز کی سب سے زیادہ تشہیر کی جاتی ہے کہ پنہ پرمکھ سے لے کر بوتھ مینجمنٹ ان کا بہت اچھا ہے تو میں یہ بتا دوں ایسا تمام سیاسی پارٹیاں اور سیاست داں کرتے رہے ہیں اور اگر یہ منفرد اور جتانے کے لئے جادو ہے تو پھر بہار، دہلی ، کرناٹک، ضمنی انتخابات اور اب ان پانچ ریاستوں میں کیوں کامیابی نہیں دلا سکے۔

امت شاہ نفرت کی سیاست اور تبدیلی کی لہر کو بھنانے کے تو ماہر ہو سکتے ہیں لیکن جب بھی حزب اختلاف متحد ہو کر اور پوری سرگرمی کے ساتھ میدان میں اترا ہے تو بی جے پی کو کامیابی نصیب نہیں ہوئی ہے۔ ان انتخابات نے جہاں بی جے پی اور وزیر اعظم کو شیشہ دکھایا ہے وہیں انہوں نے امت شاہ کی چانکیہ والی شبیہ کی بھی قلعی کھول دی ہے ۔ ان نتائج نے جہاں وزیر اعظم کو اپنے گریبان میں جھانکنے کا ایک موقع فراہم کیا ہے وہیں کانگریس کے لئے بھی ایک ذمہ داری کاامتحان ہے۔ نتائج کے بعد جیسا کانگریس صدر راہل گاندھی نے کہا کہ نریندر مودی کو ملک کے عوام کی خدمت کرنے کا موقع ملا تھا اور انہوں نے اس کا صحیح استعمال نہیں کیا اسی طرح اب کانگریس کو بھی اس بات کا دھیان رکھنا ہوگا کہ اب جو ذمہ داری ان کو ملی ہے وہ بھی اس موقع کا بھرپور استعمال کریں۔

Published: 12 Dec 2018, 2:37 AM