آہ! میری دادی انتقال کر گئیں، اس کورونا نے مجھے بھی نہیں بخشا... تنویر احمد

آج میں خود کو انتہائی محتاج اور معذور محسوس کر رہا ہوں۔ میں کتنا کم نصیب اور لاچار ہوں کہ میری دادی کا انتقال ہو گیا اور چاہ کر بھی میں نہ ان کا دیدار کر سکتا اور نہ ہی ان کی تدفین میں شامل ہو سکتا۔

عظیمہ خاتون
عظیمہ خاتون
user

تنویر احمد

پورے ہندوستان میں لاک ڈاؤن ہے۔ سبھی اپنے اپنے گھروں میں بند ہیں۔ میں بھی دہلی واقع مشہور علاقہ شاہین باغ کے ایک گھر میں بند ہوں۔ لیکن خالی نہیں بیٹھا ہوں، بلکہ خبریں پڑھ رہا ہوں، خبریں تیار کر رہا ہوں، اور لوگوں کو اَپ ٹو ڈیٹ رکھنے کے لیے تازہ ترین واقعات 'قومی آواز' کی ویب سائٹ پر گھر بیٹھے بیٹھے ہی اَپ لوڈ کر رہا ہوں۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ کورونا وائرس نے کس قدر پوری دنیا میں دہشت پھیلا رکھا ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ ہندوستان میں کورونا نے کیا کچھ گل کھلا رکھا ہے۔ لیکن گھر کے اندر بند میں خود کو محفوظ سمجھتا رہا، اور پھر اچانک آج، یعنی 8 مئی کو اس کورونا وائرس نے احساس دلا دیا کہ صرف گھروں سے باہر نکلنے والے ہی نہیں بلکہ گھر میں بیٹھنے والوں کو بھی وہ محتاج و معذور بنا سکتا ہے۔

جی ہاں، آج میں خود کو انتہائی محتاج اور معذور محسوس کر رہا ہوں۔ ایسا اس لیے کیونکہ میری عزیز دادی کا پٹنہ (بہار) انتقال ہو گیا (انا للہ وانا الیہ راجعون) اور میں نہ ہی ان کا دیدار کر سکتا اور نہ ہی ان کی تدفین میں شامل ہو سکتا۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے اس کورونا نے مجھے گھر میں بیٹھے بیٹھے اپنا شکار بنا لیا ہو۔ سچ مچ میں کچھ بھی نہیں کر سکتا، کچھ بھی تو نہیں کر سکتا۔ گھر میں ٹہل سکتا ہوں، پرانی باتیں یاد کر سکتا ہوں، اور پھر یہ دعا تو دل سے بار بار نکل رہی ہے کہ ایسے لمحات کا سامنا اللہ تعالیٰ کسی اور سے نہ کرائے، کیونکہ اپنوں کا آخری دیدار نہ کر پانے کا کسک ناقابل بیان ہے۔

میری دادی عظیمہ خاتون، تقریباً 93 سال کی عمر ہوگی۔ مبارک مہینہ رمضان، اور مبارک دن جمعہ۔ اللہ تعالیٰ نے میری دادی کو اپنے پاس بلانے کے لیے واقعی مبارک مہینہ اور دن کا انتخاب کیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے جانے سے سبھی کی آنکھیں نم ہیں۔ لیکن سچ تو یہی ہے کہ کل نفس ذائقۃ الموت۔ غالباً 4.30 بجے ان کی روح قفس کی گئی ہوگی اور مجھے یقین ہے کہ ان کے قریب چار بہوئیں ہوں گی، پانچ بیٹے ہوں گے اور کئی سارے پوتے پوتیاں بھی ۔ ایسا اس لیے کیونکہ گزشتہ تقریباً ایک مہینے سے دادی کی طبیعت زیادہ ہی ناساز چل رہی تھی اور سبھی ان کے ارد گرد ہی جمع رہتے تھے۔ ضعیفی کی وجہ سے پہلے ہی ان کی طبیعت خراب رہا کرتی تھی لیکن اس بار جو طبیعت خراب ہوئی تو جس ڈاکٹر کی دیکھ ریکھ میں تھیں، اس کا علاج کام نہیں آیا اور جب اسپتال میں داخل کرانے کی کوشش کی گئی تو موجودہ ماحول نے رخنہ پیدا کر دیا۔ تین چار دنوں تک میرے والد، چچا اور چچیرے بھائی ایک کے بعد ایک کئی اسپتالوں کے چکر لگاتے رہے لیکن کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر انھیں داخل کرنے سے منع کر دیا گیا۔ بالآخر گھر پر ہی ان کا علاج چلنے لگا اور آج یہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے۔ دادی کورونا کی مریض نہیں تھیں، لیکن ایسا لگ رہا ہے جیسے کورونا نے ہی ان کی جان لے لی۔

کچھ بیٹے، بہوئیں اور پوتے پوتیاں پٹنہ سے دور ہیں اور یقیناً وہ خود کو کم نصیب محسوس کر رہے ہوں گے کہ چاہ کر بھی پٹنہ نہیں پہنچ سکتے۔ میں تو خود کو کچھ زیادہ ہی کم نصیب سمجھ رہا ہوں کیونکہ میرے ساتھ تو دادی کی بچپن والی کئی اچھی اور کھٹی میٹھی یادیں جڑی ہوئی ہیں۔ سب سے اچھی یاد تو وہ ہے کہ جب بھی ان کا کسی جاننے والے سے ملاقات کا ارادہ ہوتا تو میری انگلی پکڑتیں اور نکل جاتیں۔ پھر دادی کی ایک عادت تو مجھے ہمیشہ سے بہت پسند رہی اور وہ عادت تھی نماز فجر کے بعد تلاوت قرآن کی۔ پٹنہ کے میرشکار ٹولہ محلہ میں کرایہ کے مکان میں جب تک میں دادی کے ساتھ رہا، صبح سویرے میرے کانوں میں ان کے ذریعہ تلاوت قرآن کی آواز پڑتی تھی تو ایک عجب سا روحانی احساس ہوتا تھا۔ یقین جانیے، اس احساس سے میں برسوں سے آشنا نہیں ہوا ہوں۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسی اچھی عادتیں اور نیک خصلتیں تو ختم ہی ہوتی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ دادی کے ہاتھوں کے لذیز کھانے، رمضان کے مہینوں میں ان کے ساتھ بیٹھ کر پڑوسیوں کے لیے افطار تیار کرنا، یا پھر ان کے ساتھ بچپن میں کی گئی گستاخیاں... کئی چیزیں ہیں جو اکثر یاد آتی رہتی ہیں، لیکن آج ایک ایک کر کے سبھی یادیں ذہن میں تازہ ہو رہی ہیں۔ دل تو کرتا ہے کہ کچھ ایسا ہو کہ میں پٹنہ پہنچ جاؤں، لیکن کیسے... یہ تو ہو ہی نہیں سکتا۔ یہ غم تو اب زندگی بھر کے لیے رہنے والا غم ہے۔ ہمیشہ ایک کسک اب دل میں رہے گی۔ ہاں، ہمیشہ رہے گی۔ میں نے دادی کا آخری دیدار نہیں کیا، ان کی تدفین میں شامل نہیں ہوا۔