مسئلہ طلاق ثلاثہ نہیں، گجرات ہے!

سوشل میڈیا

مودی کی مسلم خواتین سے ہمدردی قابل ستائش ہے لیکن ان کا دل اس وقت کیوں نہیں دکھتا جب ایک مسلمان کو موب لنچنگ کر کے قتل کیا جاتا ہے، وہ اس وقت پریشان کیوں نہیں ہوتے جب ایک مولوی کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

کیا مسلم بستیوں میں مودی سرکار نے خاص طور پر اسکول کھلوائے! نہیں ۔کیا مسلم بستیوں میں حکومت کی جانب سے کسی چھوٹے موٹے سرکاری اسپتال کا انتظام ہوا!نہیں ۔ کیا کہیں مسلم علاقوں میں ’سلبھ شوچالائے‘ (بیت الخلاء) بنوائے گئے! نہیں۔ کیا مسلمانوں میں بڑھتی بے روزگاری کو ختم کرنے کے لئے ان کے لئے کوئی خصوصی روزگار اسکیم شروع کی! نہیں۔ مودی سرکار کے پچھلے ساڑھے تین برسوں میں مسلمانوں کے لئے خاص طور پر کیا ہوا: موب لنچنگ ، لوجہاد کی آڑ میں مسلم نوجوانوں کو جیل اور مقدموں کا سامنا، چلتی ٹرین میں داڑھی رکھے مسلمان کی پٹائی، قصاب خانوں پر پابندیاں، الیکشن میں ووٹ دیتے وقت پردہ نشین عورت کا نقاب کھلواکر اس کی شناخت۔اور اب یہ اعلان کے پارلیمنٹ کے اگلے اجلاس میں حکومت طلاق بدعت کے خلاف ایک بل پاس کرے گی جس کے ذریعہ تین طلاق دینے والے مرد کو تین سال کی غیر ضمانتی سزا، جرمانہ اور نابالغ بچوں اور بیوی کے نان نفقہ کے انتظام کے لئے مہینہ واری رقم دینی ہو گی۔

آخر یہ کیوں! حکومت کے ذرائع کے مطابق یہ قانون اس لئے کہ مسلمان عورتوں پر تین طلاق کی آڑ میں ہونے والے ظلم پر پابندی لگائی جا سکے!وللہ قربان جائیں مودی سرکار کی اس ’مسلم پرستی ‘پر۔ مودی جی کو مسلم معاشرہ میں اصلاح کی اس قدر فکر ہے کہ وہ مسلمان عورتوں کے تحفظ کے لئے سخت قانون نافذ کرنے کو تیار ہیں ۔ شایدآزاد ہندوستان کی تاریخ میں نریندر مودی سے بڑھ کر دوسرا کوئی مسلم ہمدرد پیدا ہی نہیں ہوا اور شاید اب پیدا بھی نہیں ہوگا!

مودی کی یہ مسلم خواتین کے ساتھ ہمدردی یقیناً قابل ستائش ہے۔ لیکن آخر انہی مودی جی کا دل اس وقت کیوں نہیں دکھتا جب مسلم مرد کو ہندو مجمع موب لنچنگ کے ذریعہ پیٹ پیٹ کر مار ڈالتا ہے! مودی جی کو اس وقت پریشانی کیوں نہیں ہوتی کہ جب چلتی ٹرین میں ایک مولوی کو داڑھی پکڑ کر صرف اس لئے ماراجاتا ہے کہ وہ مسلمان ہے! مودی جی کے گجرات میں ان کے دور حکومت میں سن 2002 میں جب دو ہزار سے زیادہ مسلمان مارے گئے تو اظہار افسوس کے بجائے انہوں نے یہ بیان دیا کہ ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے! مودی جی سےجب کسی صحافی نے یہ سوال پوچھا کہ ان کو گجرات فسادات میں مارے جانے والوں کی موت پر کتنا افسوس ہے تو مودی جی نے یہ جواب دیا کہ انہیں اتنا ہی افسوس ہے جتنا ایک کار حادثہ میں ایک کتے کے کچل جانے سے کتے کی موت ہو جاتی ہے۔

آخر کس کو بے وقوف بنا رہے ہیں مودی جی! مودی اور مسلم اصلاح معاشرہ ، یہ دو الگ الگ راستے ہیں جو آپس میں کبھی ملتے ہی نہیں ہیں۔ میں ذاتی طور پر طلاق ثلاثہ کا سخت مخالف ہوں ، کسی بھی عورت کو مرد کوئی وجہ بتائے بغیر یا کوئی موقع دئیے بنا تین بار طلاق ،طلاق ، طلاق کہہ کر اپنی زندگی سے خارج کردے اس کی اجازت کوئی مذہب یا معاشرہ نہیں دے سکتا ہے۔ اس لئے پرسنل لاء کے نام پر مسلمان مرد کو بھی اس کی اجازت قطعاً نہیں ہونی چاہیے۔ مسلم معاشرے میں اس سلسلے میں نہ صرف اصلاح ہونی چاہیے بلکہ اگر علماء اس معاملے میں اڑنگے لگاتے ہیں تو ان کے خلاف قانون بھی ہونا چاہیے۔

لیکن مسلم خواتین کے دکھ درد نریند مودی کے دل میں ہو ۔ یہ بات حلق سے نہیں اتر تی ہے۔تو پھر کوئی نہ کوئی بات تو ہوگی کہ جس کے سبب مودی کا دل مسلم خواتین کے لئے دکھ اٹھا۔ پہلی بات تو یہ کہ آر ایس ایس کھلے بندوں اس ملک کو ہندو راشٹر مانتی ہے اور بی جے پی اس سلسلے میں Muslim Appeasement کی مخالفت کرتی ہے۔ یعنی ان کے مطابق مسلمانوں کے لئے کوئی خصوصی رعایت نہیں ہونی چاہیے ۔ مسلم پرسنل لاء کی سنگھ کے مطابق ہندو راشٹر میں کوئی جگہ نہیں ہو سکتی ہے۔ اس لئے تین طلاق ختم ہوناچا ہیے ۔ پھر سنگھ کا یہ بھی خیال ہے کہ مسلمان چار چار شادیاں کر تیز ی سے اپنی آبادی بڑھا رہا ہے ۔سنگھ کا پروپیگنڈا ہے کہ اگر ایسے ہی مسلمان شادیاں کرتا رہا تو وہ اس ملک میں مسلم اکثریت ہو جائے گی۔اس لئے تین طلاق کی رسم ختم ہونی چاہیے۔

یہ سب تو ٹھیک ہے کہ لیکن طلاق ثلاثہ کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یکا یک مودی کو اس سلسلے میں قانون سازی کی ایسی کیا آفت آن پڑی کہ بس چند ہفتوں میں پارلیمنٹ میں قانوں بنانے کو تیار ہے! در اصل ، مسئلہ طلاق ثلاثہ کا نہیں ، مسئلہ گجرات میں بی جے پی ہار کی کگار پر کھڑی ہے۔ حالات اس قدر نا گفتہ بہہ ہیں کہ خود نریند مودی اور امت شاہ کی چناوی ریلیوں سے جوش و خروش غائب ہے۔

گجرات کا مسئلہ یہ ہے کہ سن 2002 کے اسمبلی چناؤ سے اب تک نریند مودی مسلم حوّا کھڑا کر خود ’ہندو ہیرو‘ بن جاتے تھے ۔ اس طرح ایک متحد ہندو ووٹ بن جاتا تھا ۔ جس کے سہارے مودی چناؤ جیت لیتے تھے۔ ساتھ میں گجرات ماڈل کی جادو گری کر گجراتیوں کو امریکہ جیسی ترقی کے خواب دکھا کر اپنا کام نکال لیتے تھے۔ لیکن خدا بھلا کرے جی ایس ٹی اور نوٹ بندی کا ، ترقی تو جانے دیجیے، اچھے خاصے چلتے کاروبار بند ہو گئے۔ وہ پٹیل جو فسادات میں مسلمانوں کے خلاف آگے آگے تھا اس کے جوان نوکری کو ترس رہے ہیں۔ پڑھائی کے لئے پرئیویٹ کالجوں میں لاکھوں کی فیس کی مانگ ہے۔ چند سرمایہ داروں (امبانی، اڈانی اور ٹاٹا) کے مزے ہیں، پسماندہ ذاتیں اور عام گجراتی پریشان حال ہے۔ دلتوں کی پٹائی کوڑوں سے ہو رہی ہے۔

ان حالات میں آخر کب تک گجراتی ہندو توا کی افیم کے نغمے میں ہندو بن کر بی جے پی کو ووٹ ڈالتا رہتا ۔ پبلک ریلیوں میں سمٹتی بھیڑ سے گھبرائے مودی کو اب صرف یہی سمجھ میں آرہا ہے کہ گجراتی کو پھر ہندو بناؤ۔ اب وہ کیسے ہندو بنے ۔ اس کو تین طلاق کا آئینہ دکھا ؤ اور اس کے خلاف قانون سازی کے ذریعہ یہ بتاؤ کہ ’صرف مودی ہی مسلمانوں کو ٹھیک کر سکتا ہے۔‘

لیکن پیٹ کی مار ایک ایسی مار ہے جو ہر نغمہ کو ہرن کر دیتا ہے۔ جی ایس ٹی ، نوٹ بندی اور بے روزگاری سے حیران پریشان گجراتی کا بھی نشہ ہرن ہوتا جارہا ہے ۔ یہی مودی کی پریشانی ہے ۔ گھبرائے مودی کو اب طلاق ثلاثہ میں پناہ دکھائی دے رہی ہے۔ لیکن خدشہ یہ ہے کہ اس بار گجراتی عوام خود مودی کو طلاق ، طلاق، طلاق نہ کہہ دیں۔

سب سے زیادہ مقبول