قربانی اور ہمت کی یاد دلانے والا ماہِ محرم

100 سال پہلے تک ہندوستان میں حضرت علی اور امام حسین کے نقش قدم پر چلنے والے بہت کم تھے لیکن آج وہ مذہبی نقطہ نظر سے اس ملک میں تیسرے نمبر پر ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

نواب علی اختر

نواب علی اختر

ماہ محرم الحرام اسلامی تقویم کا پہلا مہینہ ہے جو عظمت و احترام میں بہت ساری نوعیتوں سے دیگر مہینوں پر فوقیت و برتری رکھتا ہے۔ اس ماہ کے حوالے سے تاریخ میں بہت سی خصوصیات ملتی ہیں مگرنواسہ رسول الثقلین، فرزند علی وفاطمہ، حضرت امام حسین کی طرف سے حق کی سربلندی کے لئے باطل کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے انکار کر کے انسانیت کو جینے کا طریقہ سکھانا اس ماہ کی سب سے بڑی خاصیت ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں آج جسے تقریباً 1400 سال پہلے خون نے تلوار کو شکست دی تھی اور حق نے باطل کو ہمیشہ کے لئے ہمیشہ کے لئے درگور کردیا تھا۔ یہ وہ مہینہ ہے جس کی 10تاریخ (عاشورہ) کو شہدائے کربلا نے تاریخ عالم میں تمام نسلوں کو ظلم کے مقابلے میں جیتنے کا راستہ دکھایا اور حق کے مقابلہ میں بڑی طاقتوں کی شکست کو دنیا کی آنکھوں کے سامنے ثابت کیا۔ کربلا میں امام حسین کی شہادت کی تاریخ قریب آتے ہی عالم اسلام کے تمام شہروں سے محرم کی خوشبو آنے لگتی ہے، شہروں کی دیواروں پر لگے ہوئے پوسٹر اور بینر، بلند عمارتوں پر نصب علم اور لوگوں کے سیاہ لباس اس بات کے گواہ ہوتے ہیں کہ محرم کا مہینہ اور امام حسین کا غم منانے کے دن آ گئے ہیں۔

محرم، ہجری شمسی کیلنڈر کے بارہ مہینوں میں سے پہلے ماہ کا نام ہے جس کا مطلب ہوتا ہے حرام یا ممنوع کیا گیا۔ اس مہینے کا نام محرم رکھنے کا سبب یہ ہے کہ اس مہینے میں جنگ شروع کرنا حرام یا ممنوع ہے۔ دشمنان اسلام نے 61 ہجری کے ماہ محرم میں امام حسین اور ان کے اہل خانہ اور ساتھیوں کا خون بہا کر نہ صرف یہ کہ اس ماہ کی توہین کی بلکہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہل خانہ کے اعزاز کو بھی روند دیا۔ چونکہ محرم کا مہینہ کربلا اور عاشورہ کے واقعہ کی یاد دلاتا ہے اس لئے اس کی آمد دلوں کو مغموم کر دیتی ہے۔

کربلا کا واقعہ دنیا کے ان عظیم ترین واقعات میں سے ایک ہے جس کی یاد 14 صدیاں گزر جانے کے بعد آج بھی منائی جاتی ہے اور اس کے اثرات میں ذرا بھی کمی نہیں آئی ہے۔ وقت کا غبار تاریخ کے ہر واقعہ کو دھندلا بنا دیتا ہے مگر جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا ہے ویسے ویسے کربلا کا واقعہ اور زیادہ واضح اورروشن ہوتا جا رہا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ سے زیادہ لوگ اس واقعہ کی طرف متوجہ ہوتے جا رہے ہیں۔ غم منانے کی ثقافت ایک اعلیٰ اورخوشحال ثقافت ہے جو 1400 برسوں سے نسل در نسل ہوتی ہوئی ہم تک پہنچی ہے اور اس کے لئے پیغمبراسلام کے اہل خانہ نے انتہائی غم وآلام برداشت کیے ہیں۔ یہ ثقافت ہمیں ہزاروں سبق سکھاتی ہے۔

پیغمبر اسلامﷺ کے اہل خانہ نے امام حسین کی مجالس کے انعقاد پر زور دیتے ہوئے اس کے پروگراموں کو اس طرح تیار کیا ہے کہ یہ جلسے لوگوں کے درمیان اتحاد کا ستون بن جائیں۔ وہ لوگوں کو امام حسین کی مجالس منعقد کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کرتے تھے اور اس کے ذریعے لوگوں میں علم و دور اندیشی پیدا کر کے انہیں انتشارسے روکتے تھے۔ اس طرح سے کہ آج امام حسین کی شہادت کے دنوں میں مختلف حصوں، اقوام، مذاہب اور فرقوں کے کروڑوں لوگ گلی کوچوں اور ہر مقام پر ان کا غم مناتے ہیں اور ان کے پرچم کے نیچے آنے کو اپنے لئے فخر سمجھتے ہیں۔

جرمنی کے نامور فلسفی اور مشرقی امور کے ماہر مےسیو ماربن اپنی کتاب ’اسلامی سیاست‘ میں لکھتے ہیں کہ ہمارے کچھ مورخین کی جہالت اس بات کی وجہ بنی کہ وہ ایک طبقہ کے ذریعہ امام حسین کا غم منائے جانے کو جنون بتائیں لیکن ان کی باتیں مکمل طور پر بے بنیاد ہیں اور انہوں نے ایسے انسانیت نوازوں پر الزام لگایا ہے۔ ہم نے ذاتوں اور قوموں کے درمیان اس طبقہ جیسے پرجوش اور زندہ لوگ نہیں دیکھے ہیں کیونکہ انہوں نے باطل کو شکست دے کرحق کا سربلند رکھنے والے امام حسین کا غم منا کر بڑی دانشورانہ حکمت اپنائی ہے اور کامیاب مذہبی تحریکوں کو وجود فراہم کر رہے ہیں۔ جو بھی ایسے طبقے کی پیش رفت اور ترقی کے عمل کا جائزہ لے گا اور گزشتہ 100 برسوں میں حسین کا غم منانے والوں کی زندگی کا مطالعہ کرے گا وہ سمجھ جائے گا کہ ایسے لوگ اپنے کامل ہونے کے آخری مرحلے تک پہنچ گئے ہیں۔

100 سال پہلے تک ہندوستان میں حضرت علی اور حسین کے نقش قدم پر چلنے والے بہت کم تھے لیکن آج وہ مذہبی نقطہ نظر سے اس ملک میں تیسرے نمبر پر ہیں اور دنیا کے دیگر علاقوں میں بھی یہی صورت حال ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اسلام کے باقی رہنے اور ترقی کرنے اور مسلمانوں کے کامل ہونے کی ایک بڑی وجہ امام حسین کی شہادت کا دلسوز واقعہ ہے اور مجھے پورا یقین ہے کہ مسلمانوں کی دانشورانہ پالیسی اور ان کے زندگی بخش پروگرام کا نفاذ امام حسین کا غم منائے جانے کے ذریعے سے ہی ہے۔ جب تک مسلمانوں میں یہ بات باقی رہے گی ،اس وقت تک وہ کبھی بھی ذلت برداشت نہیں کریں گے اور کسی کے بھی فریب میں نہیں پھنسیں گے۔

ہر سال امام حسین اور تحریک عاشورہ کی یاد لوگوں کے ذہنوں میں پہلے سے زیادہ مضبوط اور زندہ ہوتی جا رہی ہے۔ امام حسین ایک انقلابی اور ظلم وزیادتی سے مقابلہ کرنے والے عظیم انسان کے طور پر مجاہدین کے رہنما بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے حق اور انصاف پسندی کی بنیاد پر ایک الہی تحریک شروع کی جس میں بلا تفریق مذہب ومسلک تمام انسانوں کے لئے عظمت و وقار کی لہریں موجیں مار رہی ہیں۔ وہ خوبصورت اور مقدس زندگی گزارنے کے لئے ایک انتہائی مناسب استاد ہیں۔ حالانکہ امام حسین کی تحریک کو تقریباً 14 صدیاں گزر چکی ہیں لیکن وقت ان کے اور عاشورہ کی تحریک کے نام کو بھلا نہیں سکا ہے۔

جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا ہے امام حسین کی تحریک کی عظمت کا طول و عرض وسیع تر ہوتے جا رہے ہیں۔ موجودہ وقت میں بھی امام حسین کی تحریک مظالم کا شکار لوگوں، قوموں اور طبقات میں مزاحمت کے جذبہ پیدا کرتے ہیں اور انہیں غیر جانبداری سے دور رکھتے ہیں۔ امام حسین نے عملی نقطہ نظر سے پوری تاریخ اسلامی کو ایک بہت بڑا درس دیا اور حقیقت میں اسلام کو اپنے دور میں اور آنے والے وقت میں بھی مکمل طور پر محفوظ کر دیا۔ جس مقام پر بھی اس جیسی برائی ہوگی، اس سے مقابلے کے لئے امام حسین وہاں زندہ ہوں گے اور اپنے کردار سے بتائیں گے کہ ہمیں کیا کرنا ہے اور ہماری ذمہ داری کیا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ امام حسین اور کربلا کی یاد باقی رہنی چاہیے کیونکہ کربلا کا عملی درس سبھی کی آنکھوں کے سامنے رہتا ہے۔ امام حسین کے ذریعہ شروع کی گئی تحریک کربلا اپنا کر بڑی سے بڑی جنگیں جیتی جاسکتی ہیں اس کی زندہ مثال ہندوستان کی تحریک آزادی ہے۔ بابائے قوم مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ ہم نے کربلا میں حضرت حسین کے ذریعہ لڑی گئی جنگ کو سامنے رکھ کرتحریک آزادی کو دوام بخشا اورآخرکار ہم فتحیاب ہوئے۔

Published: 1 Sep 2019, 7:10 PM