مودی کا ’’کبیر داؤ‘‘ الٹا پڑ گیا

کبیر کے نام پر سیاست کرنے کی جو کوشش کی جا رہی ہے اس کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے اور اس کی کوشش شروع ہو گئی ہے

جوں جوں 2019 کے انتخابات قریب آرہے ہیں وزیر اعظم نریندر مودی کی چھٹپٹاہٹ بڑھتی جا رہی ہے۔ بی جے پی صدر امت شاہ بھی گھبرائے ہوئے سے ہیں اور مرکزی وزرا بھی فکرمند نظر آرہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ خود آر ایس ایس کے ایک اندرونی سروے نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ اسی لیے مودی ہر وہ حرکت کرنے لگے ہیں جس سے کچھ ووٹ حاصل ہو جائیں۔ اسی مقصد کے تحت انھوں نے اتر پردیش کے مگہر میں28 جون کو سولہویں صدی کے ایک صوفی شاعر کبیر داس کے مزار کا دورہ کیا، وہاں انھوں نے ان کا یوم پیدائش منایا اور ایک مطالعاتی مرکز کا سنگ بنیاد رکھا۔

انھوں نے اس موقع پر کبیر داس کے دوہے بھی سنائے اور کچھ تاریخ پر بھی روشنی ڈالی۔ اپنی عادت اور فطرت کے مطابق بلکہ لا علمی کی بنیاد پر انھوں نے دوہے بھی غلط پڑھے اور تاریخ بھی غلط پیش کی۔ انھوں نے کہا کہ کبیر داس، بابا گورکھ ناتھ اور گرو نانک نے یہیں یعنی مگہر میں بیٹھ کر روحانیت پر غور و خوض کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کبیر داس اور بابا گورکھ ناتھ ہمعصر ہیں لیکن کبیر داس نے اپنی پوری زندگی بنارس میں گزار دی تھی۔ مگہر میں صرف ان کی موت ہوئی تھی۔

روایات کے مطابق انھوں نے یہ سوچ کر کہ ان کی موت بھی بنارس ہی میں آئے اپنے دونوں پاؤں توڑ لیے تھے۔ لیکن موت ان کو مگہر لے کر چلی گئی۔ ان کی موت کے بعد ہندووں اور مسلمانوں میں ان کی تدفین کے سلسلے میں لڑائی ہو گئی۔ دونوں کا دعویٰ تھا کہ کبیر ان کے مذہب کے تھے لہٰذا وہی آخری رسوم ادا کریں گے۔ مختصر یہ کہ جب ایک مفاہمت کے تحت ہندووں اور مسلمانوں نے ان کی لاش پر سے چادر ہٹائی تو وہاں کچھ پھول رکھے ہوئے تھے۔ دونوں نے پھول تقسیم کر لیے۔ مسلمانوں نے پھول دفن کیے اور ہندووں نے نذر آتش کر دیے۔ یعنی وہاں بیٹھ کر چنتن کرنے کا کوئی موقع ان کو نہیں ملا تھا۔

اب جبکہ وزیر اعظم مودی نے مگہر میں کبیر کا یوم پیدائش منایا تو کبیر پنتھی اس کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کبیر داس مگہر میں صرف مرے تھے، پیدا بنارس کے پاس ایک گاؤں لہر تارا میں ہوئے تھے۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی بھی بنارس ہی میں گزاری تھی۔ اس لیے ان کا یوم پیدائش تو بنارس میں منایا جانا چاہیے مگہر میں نہیں۔ Twocircles.net کی ایک رپورٹ کے مطابق کبیر کی روایت کے 24 ویں مہنت وویک داس کا کہنا ہے کہ مودی نے مگہر میں ایک غلط روایت کی بنیاد ڈالی ہے جس کی پرزور مخالفت ہونی چاہیے۔ بنارس میں متعدد کبیر پنتھیوں اور اسکالروں نے بھی مودی کے اس قدم کی مخالفت کی ہے۔

ان لوگوں کا کہنا ہے کہ کبیر کے بارے میں جو بھی لٹریچر دستیاب ہے اس کے مطابق ان کی شناخت مذہب سے نہیں تھی۔ وہ ہندو مذہب کی بہت سی روایتوں کے خلاف تھے اور مسلمانوں کے بھی بہت سے رسوم کے خلاف تھے۔ انھوں نے جہاں مورتی پوجا کی مخالفت کی وہیں انھوں نے اپنے دوہے میں عالیشان مسجد تعمیر کرنے کی بھی مخالفت کی۔ لیکن مودی اور یوگی کبیر کے ان کاموں کے اوپر جو مذہب مخالف تھے، دھرم کو تھوپنا چاہتے ہیں۔ اس کا مقصد سوائے ووٹ حاصل کرنے کے اور کچھ نہیں۔ چونکہ کبیر پنتھیوں میں ہندو اور مسلمان دونوں ہیں اس لیے وہ اس ووٹ بینک پر قبضـہ جمانا چاہتے ہیں۔

بنار س ہندو یونیورسٹی کے ایک ریٹائرڈ پروفیسر اور بنارس کی تاریخ کے ماہر رانا پی بی سنگھ کہتے ہیں کہ مگہر میں جو کچھ کیا گیا وہ کبیر کے نظریات کے خلاف ہے۔ یہ ووٹ بینک کی سیاست ہے جو کہ کبیر کی سوچ کے برعکس ہے۔ کبیر نے پوری زندگی جو کچھ کیا ان کے نام پر اس کے خلاف کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بنارس ہندو یونیورسٹی کے ایک اور کبیر اسکالر سنتوش کمار کہتے ہیں کہ مودی کا یہ قدم مذہب کے نام پر لوگوں کو تقسیم کرنا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ یہاں بہت سے کبیر پنتھی ہیں جن میں دلت اور مسلمان بھی ہیں۔ لہٰذا وہ ہندوتو کے دائرے میں ہر چیز لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کبیر داس کو اپنا آئیڈیل ماننے والے گورکھپور کے ایک بزرگ اور معروف اسکالر ضمیر احمد پیام نے اس نمائندے سے بات چیت میں کہا کہ بابا گورکھ ناتھ اور کبیر داس دونوں امن پسند تھے۔ گورکھ ناتھ تو کبیر کو بہت مانتے تھے۔ لیکن مودی اور یوگی ان کے نظریات کو عام کرنے کے بجائے ان کے نام پر ووٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ جناب پیام کے مطابق جس طرح یوگی آدتیہ ناتھ نے گورکھ پنتھیوں کو ووٹ کی خاطر استعمال کیا اسی طرح مودی کبیر پنتھیوں کو ووٹ کی خاطر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ اس بارے میں اخبارات میں مضامین لکھنے والے ہیں۔ خیال رہے کہ ضمیر احمد پیام نے کبیر داس پر ایک بے حد دستاویزی قسم کی کتاب تصنیف کی ہے۔

انھوں نے کبیر پنتھیوں کو ہوشیار کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ یوگی اور مودی کے جھانسے میں نہ آئیں۔ کیونکہ یہ لوگ صرف اور صرف ووٹ کی سیاست کر رہے ہیں۔ اگر وہ واقعی کبیر داس اور گورکھ ناتھ کے سچے عقیدت مند ہیں تو انھیں چاہیے کہ وہ ان کے نظریات، تعلیمات اور پیغامات کو عام کریں۔ لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ کیونکہ ایسا کرنے سے ان کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ وہ تو صرف کبیر کے نام پر سیاست کی روٹی سینکنا چاہتے ہیں۔ اس لیے کبیر پنتھیوں کو اور ان لوگوں کو جو کبیر داس کے نظریات سے اتفاق رکھتے ہیں بہت ہی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

جہاں تک کبیر داس کا تعلق ہے تو ان کی پیدائش متنازعہ ہے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ وہ ایک برہمن خاتون کے شکم سے پیدا ہوئے تھے۔ اور وہ خاتون غیرت کی وجہ سے انھیں لہرتارا گاؤں کے پاس ایک تالاب کے کنارے چھوڑ آئی تھی۔ نیرو اور نیما نامی ایک جولاہا جوڑا جو وہاں سے گزر رہا تھا اسے کبیر مل گئے اور انھوں نے ان کی پرورش کی۔ کبیر داس ہتھ کرگھا بھی چلاتے رہے۔ بلکہ اس حوالے سے ایک مصوری بھی بہت معروف ہے جس میں وہ کپڑا بن رہے ہیں۔

فراق گورکھپوری نے لکھا ہے کہ کبیر ایک مسلم جولاہے کے گھر پیدا ہوئے تھے۔ جبکہ علی سردار جعفری کا کہنا ہے کہ کبیر داس ایک مسلم صوفی تھے مگر وہ اپنی بات ہندو سادھو سنتوں کے انداز میں رکھتے تھے۔

بہر حال یہ سب تو ادیبوں اور مورخوں کا کام ہے۔ البتہ کبیر کے نام پر سیاست کرنے کی جو کوشش کی جا رہی ہے اس کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے اور اس کی کوشش شروع ہو گئی ہے۔ یعنی کبیر اسکالروں کی جانب سے کبیر پنتھیوں کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ وہ یوگی اور مودی کے سیاسی ہتھکنڈوں سے دور رہیں۔ گویا مودی کا کبیر داؤ الٹا پڑ گیا۔

سب سے زیادہ مقبول