مہنگائی ڈائن... بی جے پی کو ’جنتا معاف نہیں کرے گی‘

بی جے پی نے 2014 عام انتخابات سے قبل جو ویڈیو اشتہارات کانگریس کو شکست دینے کے لیے تیار کیے تھے وہی اب مودی حکومت کے لیے مصیبت بن گئے ہیں اور سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہے ہیں۔

’’پٹرول -ڈیزل کے دام ہر بار بڑھتے گئے تو اسکوٹر کھڑا کر دیا، بس سے چلنے لگے۔ پڑھائی لکھائی کے خرچوں نے ہماری جیبیں خالی کر دیں، پھر بھی من مار کر کام چلایا۔ پر جب روز روز کی ہر ضرورت کی چیزوں کے دام لگاتار بڑھتے جائیں گے تو ہم اپنے بچوں کا مستقبل کیسے بنائیں گے؟ انھیں کیا کھلائیں گے؟ مہنگائی کو لگاتار بڑھانے والو... جنتا معاف نہیں کرے گی۔‘‘

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ بیان کسی بی جے پی مخالف پارٹی یا لیڈر کا ہے جو کہ پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ ہو رہے اضافے کے سبب مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ لیکن نہیں... یہ تو ایک ویڈیو اشتہار میں استعمال کئے گئے جملے ہیں جو خود بی جے پی نے تیار کیے تھے۔ اس اشتہار میں مہنگائی سے بے حال ایک خاتون اپنی مختصر روداد بیان کرتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ یہ اشتہار 2014 میں ہوئے عام انتخابات کے وقت بی جے پی نے زور و شور سے چلایا تھا اور ’اچھے دن‘ کے بعد کوئی جملہ زبان زد عام و خاص تھا تو وہ تھا ’جنتا معاف نہیں کرے گی‘۔اس کو شئیر کرتے وقت لکھا گیا ہے ’’چار سال پہلے یہ خاتون دن میں 50 بار ٹی وی پر نظر آتی تھی۔ آج کہاں ہیں یہ میڈم!‘‘

یہ ٹوئٹ گزشتہ 24 گھنٹے میں تقریباً ڈھائی ہزار لوگوں نے ری-ٹوئٹ کیا ہے اور ویڈیو وائرل ہو چکا ہے۔ چار سال قبل جو اشتہار بی جے پی کو بر سر اقتدار لانے میں مددگار ثابت ہوا تھا ، وہی اشتہار اب ان کے لیے مصیبتیں کھڑی کرتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ’جنتا معاف نہیں کرے گی‘ سیریز کے کچھ دوسرے اشتہارات بھی سوشل میڈیا پر گشت کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ اس میں مہنگائی پر مبنی ایک دیگر اشتہار میں خاتون اپنا درد کچھ یوں بیان کرتی ہے ’’2 ایکم 2، 2 دونی 8، 8 دونی 24، 24 دونی 60۔ اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ میرا پہاڑا غلط ہے تو آپ غلط سوچ رہے ہیں۔ یہ مہنگائی کا وہ پہاڑا ہے جو اس دیش کی سرکار ہمیں پڑھا رہی ہے۔ مہنگائی کا پہاڑ کھڑا کرنے والو... جنتا معاف نہیں کرے گی۔‘‘ چار سال بعد ان میڈم کا بھی کوئی پتہ نہیں۔ شاید دونوں خواتین مودی حکومت کے 4 سال دیکھنے کے بعد کوما میں چلیں گئی ہوں گی۔ ایسا اس لیے ممکن ہے کیونکہ گزشتہ چار سالوں میں ہر چیز کی قیمت بڑھی ہے اور پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں نے تو ہر طرح کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ گیس سلنڈر کی قیمت پر بھی مودی حکومت کا ’آشیرواد‘ رہا اور اس کی قیمت تقریباً دوگنی ہو گئی۔ 2014 کے مقابلے 2018 کی مہنگائی پر مبنی ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہا ہے جس سے آپ بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں کہ کس طرح مودی حکومت نے لوٹ مچا رکھی ہے اور عوام پر بیجا بوجھ ڈال کر اپنی جھولی بھر رہی ہے۔

دھیرج گرجر کے ٹوئٹر ہینڈل سے شیئر 1 منٹ 42 سیکنڈ کے اس ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ 2014 میں بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمت 107 ڈالر فی بیرل تھی جب کہ 2018 میں یہ قیمت 73 ڈالر فی بیرل ہے۔ یعنی قیمت میں 34 ڈالر فی بیرل کی کمی درج کی گئی ہے۔ اس کے باوجود 2014 میں پٹرول کی قیمت 71 روپے فی لیٹر کے مقابلے 2018 میں 80 روپے فی لیٹر فروخت ہو رہی ہے۔ اسی طرح 2014 میں ڈیزل کی قیمت 55 روپے کے مقابلے 2018 میں 73 روپے فی لیٹر ہے۔ گویا کہ 2014 کے مقابلے خام تیل کی قیمت میں 34 ڈالر فی بیرل کی کمی کے بعد بھی مودی حکومت نے ڈیزل کی قیمت 9 روپے فی لیٹر بڑھا دی اور پٹرول میں بھی 18 روپے کا اضافہ کر دیا۔ حد تو یہ ہے کہ 2014 کے مقابلے 2018 میں پٹرول کی ایکسائز ڈیوٹی 9 روپے سے بڑھا کر 19 روپے کر دی گئی اور ڈیزل کی ایکسائز ڈیوٹی 3 روپے سے بڑھا کر 15 روپے۔ یعنی پٹرول ایکسائز ڈیوٹی میں 111 فیصد کا اضافہ اور ڈیزل میں 343 فیصد کا اضافہ۔

اسی ویڈیو میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ شروع کیے گئے ’اُجولا یوجنا‘ کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے جس کے تحت ہر گھر میں گیس سلنڈر پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا۔ لیکن اس گیس کی قیمت میں بھی تقریباً دو گنا اضافہ کر دیا گیا۔ 2014 میں جہاں ایک گیس سلنڈر کی قیمت 414 روپے ہوا کرتی تھی وہ اب بڑھ کر 754 روپے ہو گئی ہے۔ ویڈیو میں4 سال قبل نریندر مودی کے ذریعہ ملک کا ’جی ڈی پی‘ بڑھانے سے متعلق وعدہ پر طنز کے تیر بھی چلائے گئے ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ پچھلے چار سالوں میں ’جی ڈی پی‘ کے نام پر کچھ بڑھا ہے تو وہ ہے ’گیس، ڈیزل اور پٹرول‘ کی قیمت۔

یہ بھی پڑھیں جادو کی جھپّی کا اثر، مودی کے اپنے بھی کر رہے راہل کی تعریف

اس بڑھتی ہوئی مہنگائی پر کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن پارٹیاں مودی حکومت کے خلاف سڑکوں پر اتر رہی ہیں اور لگاتار انھیں تنقید کا نشانہ بھی بنا رہی ہیں۔ حتیٰ کہ کچھ ریاستوں میں بی جے پی کی اتحادی پارٹیوں کے لیڈران بھی اس بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے کا مشورہ وزیر اعظم نریندر مودی کو دے چکے ہیں۔ لگاتار ہو رہے حملوں کے باوجود قیمت کم کرنے کی جگہ مرکزی حکومت عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہی ہے اور اس کوشش میں خود اسی کی بدنامی ہو رہی ہے۔ گزشتہ دنوں بی جے پی نے ایک گرافک اپنے ٹوئٹر پر پیش کیا جس میں 16 مئی 2004، 16 مئی 2009، 16 مئی 2014 اور 10 ستمبر 2018 کو پٹرول کی قیمتوں کو ظاہر کیا اور حیرت انگیز طریقے سے 2018 میں جب کہ قیمت 80 روپے سے زیادہ ہے اسے 2014 میں 71.41 روپے سے نیچے دکھایا گیا ہے۔ اس گرافک پر معروف ٹی وی جرنلسٹ رویش کمار نے طنز بھی کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’آپ بی جے پی کے اس گرافک کو تبھی سمجھ سکتے ہیں جب آپ ریاضی کے امتحان میں فیل ہوئے ہیں۔ اگر آپ ریاضی میں پاس ہو گئے ہیں تو یہ گرافک آپ کی سمجھ میں نہیں آئے گا۔‘‘

اس طرح دیکھا جائے تو مودی حکومت کی جڑیں اس کے اپنے ہی ہتھیار کاٹ رہے ہیں۔ بی جے پی جتنا بھی بچنے کی کوشش کر رہی ہے وہ پھنستی ہی جا رہی ہے، اور عوام کو اصل ایشوز سے دھیان ہٹا کر دوسری طرف کرنے کی اس کی کوششیں بھی ناکام ہو رہی ہیں۔ مہنگائی ڈائن کے ساتھ ساتھ پی این بی گھوٹالہ، رافیل طیارہ گھوٹالہ اور جی ایس ٹی و نوٹ بندی جیسے معاملوں پر بی جے پی کو کچھ بولتے نہیں بن رہا ہے۔ یہی سبب ہے کہ این ڈی اے میں شامل کئی پارٹیاں علیحدہ ہو چکی ہیں اور کئی علیحدہ ہونے والی ہیں۔ شاید ان لوگوں کو بھی احساس ہو گیا ہے کہ مودی حکومت کو ’جنتا معاف نہیں کرے گی‘۔

سب سے زیادہ مقبول