6 دسمبر ہندوستانی تاریخ کا یوم سیاہ، کیسے کیا ہوا، ویڈیو ضرور دیکھیں

بابری مسجد کو شہید ہوئے آج پورے 26 سال ہو گئے ہیں اور آج پھر وہی ماحول ہے جو 1992 میں تھا آئیے جانتے ہیں بابری مسجد کی تعمیر سے لے کر آج تک کی تاریخ کیا ہے؟

By قومی آوازبیورو

آج 6دسمبر ہے اور سال 1992 میں آج کے ہی دن شدت پسند ہندو کار سیوکوں نے تاریخی بابری مسجد کو اس وقت شہید کر دیا تھا جب ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ کو اس کی حفاظت کی تحریری یقین دہانی کرائی تھی۔

آئیے جانتے ہیں بابری مسجد کی تعمیر سے لے کر آج تک تاریخ در تاریخ کب کب کیا کیا ہوا؟ اس وقت کا ویڈیو ضرور دیکھیں ۔

1528۔ ایودھیا میں میر باقی نے بابری مسجد کی تعمیر کرائی۔

1949 ۔ خفیہ طور سے بابری مسجد میں رام کی مورتی رکھ دی گئیں۔

1959۔ نرموہی اکھاڑے کی طرف سے متنازعہ مقام کے تعلق سے ٹرانسفر کی عرضی داخل کی۔ بعد ازیں 1961 میں یوپی سنی سنٹرل بورڈ نے بھی بابری مسجد پر قبضہ کی عرضی داخل کی۔

1986۔ متنازعہ مقام کو ہندو عقیدت مندگان کے لئے کھول دیا گیا۔ اسی سال بابری مسجد ایکشن کمیٹی تشکیل ہوئی۔

1990 ۔ لال کرشن اڈوانی نے ملک گیر رتھ یاترا کا آغاز کیا۔

1991 ۔ رتھ یاترا کی لہر سے بی جے پی اترپردیش کے اقتدار میں آ گئی۔ اسی سال مندر تعمیر کے لئے ملک بھر سے اینٹیں بھیجی گئیں۔

6 دسمبر 1992۔ ایودھیا پہنچ کر ہزاروں کار سیوکوں نے بابری مسجد کو شہید کر دیا۔ اس کے بعد جگہ جگہ فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات رونما ہوئے۔ پولس نے لاٹھی چار ج کیا اور فائرنگ میں کئی لوگوں کی موت ہو گئی۔ جلد بازی میں ایک عارضی رام مندر بنا دیا گیا۔ سابق وزیر اعظم نرسمہا راؤ نے مسجد کی از سر نو تعمیر کا وعدہ کیا۔

16 دسمبر 1992۔ بابری مسجد انہدام کے لئے ذمہ دار صورت حال کی جانچ کے لئے ایم ایس لبراہن کمیشن تشکیل دی گئی۔

1994۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ میں بابری مسجد انہدام کے تعلق سے مقدمہ کا آغاز ہوا۔

4 مئی 2001۔ خصوصی جج ایس کے شکلا نے بی جے پی رہنما لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی سمیت 13 رہنماؤں کو سازش کے الزام سے بری کر دیا۔

یکم جنوری 2002۔ اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے ایک ایودھیا کمیشن کا قیام کیا جس کا مقصد تنازعہ کو حل کرنا اور ہندو و مسلمانوں سے بات کرنا تھا۔

یکم اپریل 2002۔ ایودھیا کے متنازعہ مقام پر مالکانہ حق کے تعلق سے الہ آباد ہائی کورٹ کی تین ججو ں کی بنچ نے سماعت کا آغاز کیا۔

5 مارچ 2003۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے محکمہ آثار قدیمہ کو کھدائی کرنے کا حکم دیا تاکہ مندر یا مسجد کے حوالے سے ثبوت مل سکیں۔

22 اگست 2003۔ محکمہ آثار قدیمہ نے ایودھیا میں کھدائی کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ میں رپورٹ پیش کر دی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ مسجد کے نیچے 10 ویں صدی کے مندر کے باقیات کا اشارہ ملتا ہے۔ اس رپورٹ کو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے چیلنج کیا۔

ستمبر 2003۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ مسجد انہدام کے لئے اکسانے والے 7 ہندو رہنماؤ ں کو پیشی پر بلایا جائے۔

جولائی 2009۔ لبراہن کمیشن نے کمیشن تشکیل کے 17 سال بعد وزیر اعظم منموہن سنگھ کو اپنی رپورٹ سونپی۔

26 جولائی 2010۔ معاملہ کی سماعت کر رہے الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے فیصلہ محفوظ رکھا اور تمام فریقین سے آپسی رضامندی سے حل نکالنے کی صلاح دی۔ لیکن کوئی فریق آگے نہیں آیا۔

28 ستمبر 2010۔ سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے متنازعہ معاملہ میں فیصلہ دینے سے روکنے والی عرضی خارج کردی جس کے بعد فیصلہ کی راہ ہموار ہوئی۔

30 ستمبر 2010۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے تاریخی فیصلہ سنایا، جس کے تحت متنازعہ زمین کو تین حصو ں میں تقسیم کر تے ہوئے ایک حصہ رام مندر، دوسرا سنی وقف بورڈ اور تیسرا نرموہی اکھاڑے کو دے دیا۔

9 مئی 2011۔ سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگا دی۔

21 مارچ 2017۔ سپریم کورٹ نے معاملہ کو آپسی رضامندی سے حل کرنے کی صلاح دی۔

19 اپریل 2017۔ سپریم کورٹ نے بابری مسجد انہدام کے معاملے میں لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی سمیت بی جے پی اور آر ایس ایس کے کئی رہنماؤں کے خلاف مجرمانہ مقدمہ چلانے کا حکم سنایا۔

16 نومبر 2017۔ ہندو گرو شر ی شری روی شنکر نے معاملہ کو حل کرنے کی کوشش شروع کی اور اس ضمن میں انہوں نے کئی فریقوں سے ملاقات بھی کی۔

5 دسمبر2017۔ سپریم کورٹ میں 8 فروری 2018 سے سماعت شروع کرنے کا فیصلہ۔

8 فروری 2018۔ فریقین کو حکم دیا کہ وہ تمام دستاویزات کو مع ترجمہ کورٹ جمع کرائیں۔

14 مارچ 2018۔ بی جے پی کے رہنما سبرامنیم سوامی کی عرضی سمیت تمام مداخلت کی عرضیاں خارج۔

23 مارچ 2018۔ مسلم فریق جمعیۃ علماء ہند کے وکیل ڈاکٹر راجیود ھون نے اپنا موقف رکھتے ہوئے کہا، جسٹس ورما کا یہ کہنا کہ نماز کہیں بھی ادا کی جاسکتی ہے، غلط ہے کیونکہ نماز ادا کرنے کی جگہ مسجد ہے اور اسلام میں اس کی شرعی حیثیت ہے جسے ختم نہیں کیا جاسکتا۔

6 جولائی 2018۔ جمعیۃ علماء ہند کے وکیل ڈاکٹر راجیو دھون نے معاملہ کو کثیر رکنی بنچ کے سامنے سماعت کے لئے پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔

20 جولائی 2018۔ بابری مسجد-رام جنم بھومی ملکیت تنازعہ کی سپریم کورٹ میں 5 دسمبر 2017 سے چلنے والی سماعت کا اختتام۔

27 ستمبر 2018۔ چیف جسٹس دیپک مشراکی سربراہی والی بنچ نے معاملہ کو کثیر رکنی بنچ کے پاس بھیجنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ ’اسماعیل فاروقی فیصلہ‘ کا مقدمہ پر کوئی اثرنہیں پڑے گا۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ نماز مسجد میں ادا کرنا ضروری ہے یا نہیں اس بات سے مقدمہ کا کوئیواسطہ نہیں ہے۔