آلوک ورما ایک ’بڑا کیس‘ کھولنے والے تھے، گھبرا کر مودی حکومت نے کر دی چھٹی!

آلوک ورما نے سی بی آئی ہیڈ کوارٹر پہنچتے ہی جس تیزی کے ساتھ ایکشن لینا شروع کیا، اس سے مودی حکومت گھبرا گئی۔ خفیہ محکمہ کی رپورٹ ملنے کے بعد حکومت حرکت میں آ گئی اور آلوک ورما کو عہدہ سے ہٹا دیا۔

تسلیم خان

آخر وہ کون سی وجہ تھی کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ذمہ داری سنبھالنے والے آلوک ورما کو 36 گھنٹے کے اندر ہی سی بی آئی سے ہٹا دیا گیا؟ آخر کیوں سی بی آئی ہیڈکوارٹر پر ایک بار پھر دہلی پولس کا پہرا بٹھا دیا گیا؟ آخر وہ کون سا معاملہ تھا جس کے کھلنے کا خوف برسراقتدار طبقہ اور خصوصاً وزیر اعظم نریندر مودی کو پریشان کر رہا تھا؟ یہ ایسے سوال ہیں جن کے جواب سیاسی بھی ہیں اور انتظامی بھی۔

گزشتہ 36 گھنٹوں کے دوران سی بی آئی ہیڈکوارٹر میں جو ہلچل مچی تھی اس سے یہ قیاس تو لگنے لگے تھے کہ بھلے ہی سپریم کورٹ نے آلوک ورما کو سی بی آئی میں بحال کر دیا ہو لیکن وہ اپنی مدت کار شاید ہی مکمل کر پائیں۔ انہی ہلچل کے درمیان جب وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی سلیکٹ کمیٹی کی میٹنگ طلب کی گئی تو تصویر کچھ کچھ صاف ہونے لگی تھی کہ آلوک ورما سی بی آئی میں زیادہ دن کے مہمان نہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد جیسے ہی آلوک ورما نے سی بی آئی ہیڈکوارٹر پہنچ کر ذمہ داری سنبھالی، ان کے قریبی افسروں کی سی بی آئی میں آمد و رفت شروع ہو گئی تھی۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ محکمہ خفیہ نے حکومت کو اطلاع دی کہ آلوک ورما کسی خاص مشن کے تحت بدلے کے جذبہ سے کوئی ’بڑا کیس‘ درج کر سکتے ہیں۔

یوں تو سپریم کورٹ نے ان کی بحالی کا پروانہ منگل کو ہی جاری کر دیا تھا لیکن وہ قصداً اس دن سی بی آئی ہیڈکوارٹر نہیں گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ ایک سوچی سمجھی پالیسی کا حصہ تھی۔ اسی دن یعنی منگل کو ہی سی بی آئی افسر اے کے بسّی انڈمان سے دہلی پہنچ گئے۔ یہ خبر بھی محکمہ خفیہ نے حکومت کو پہنچا دی۔ بسّی وہ افسر ہیں جو چھٹی پر بھیجے گئے سی بی آئی کے اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانہ کے خلاف جانچ افسر تھے۔

بسّی کے دہلی پہنچنے کے اگلے دن یعنی بدھ کو آلوک ورما نے ذمہ داری سنبھالی اور اے کے بسّی کا تبادلہ انڈمان سے واپس دہلی سی بی آئی دفتر کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی آلوک ورما نے کئی دیگر افسران کا تبادلہ اِدھر اُدھر کر دیا۔ ورما کے اس قدم سے سرکاری خیمہ میں ہلچل مچ گئی۔

اس درمیان سلیکٹ کمیٹی کی میٹنگ کا عمل شروع ہو گیا اور قیاس لگائے جانے لگے کہ اب آلوک ورما کا وقت سی بی آئی میں مکمل ہو چکا ہے۔ اور ہوا بھی یہی۔ وزیر اعظم کی صدارت والی سہ رکنی کمیٹی نے 1-2 کے فیصلہ سے آلوک ورما کو ہٹانے کا فرمان سنا دیا۔ کمیٹی میں پی ایم مودی کے علاوہ اپوزیشن کے لیڈر ملکارجن کھڑگے اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کو ہونا تھا۔ لیکن چونکہ جسٹس گوگوئی نے آلوک ورما کی بحالی کا پروانہ جاری کیا تھا اس لیے انھوں نے اپنی جگہ جسٹس اے کے سیکری کو اس میٹنگ میں بھیجا۔ میٹنگ میں آلوک ورما کے خلاف سی وی سی رپورٹ رکھی گئی جس پر ملکارجن کھڑگے نے اعتراض ظاہر کیا اور ورما کو سی بی آئی میں ہی رہنے دینے کی دلیل رکھی۔ لیکن جسٹس سیکری اور وزیر اعظم کی نظر میں سی وی سی کی رپورٹ میں ایسے ضروری اسباب تھے جن کی بنیاد پر آلوک ورما کو سی بی آئی سے ہٹانا لازمی ہو گیا تھا۔ آخر کار سی بی آئی سے آلوک ورما کی وداعی کر دی گئی۔ انھیں اب فائر بریگیڈ محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ دیا گیا ہے۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ورما کو ہٹائے جانے کے بعد ناگیشور راؤ کو ایک بار پھر سے عارضی ڈائریکٹر بنا دیا گیا ہے اور نیا ڈائریکٹر طے ہونے تک وہ سی بی آئی کا کام دیکھیں گے۔ اس کے ساتھ ہی نئے ڈائریکٹر کی تقرری کا عمل بھی شروع ہو گیا ہے۔ سی بی آئی کے نئے ڈائریکٹر کی تقرری میں اب سی جے آئی جسٹس رنجن گوگوئی کا کردار اہمیت کا حامل ہوگا۔ رنجن گوگوئی نے جب آلوک ورما کو بحال کیا تھا تو ان پر کچھ شرطیں لگائی تھیں، ساتھ ہی سلیکٹ کمیٹی کو بھی ہدایت دی تھی کہ کمیٹی آلوک ورما کے بارے میں فیصلہ لے۔

سی بی آئی سے ہٹائے جانے کے بعد اب آلوک ورما پر جانچ کی تلوار لٹک رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی نظر میں آلوک ورما بدعنوانی کے کچھ معاملوں میں کچھ اپوزیشن لیڈروں کی مدد کر رہے تھے۔ آلوک ورما کے ڈپٹی اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانہ پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ وزیر ریل کے آئی آر سی ٹی سی گھوٹالے میں لالو یادو کی مدد کر رہے تھے۔ وہیں ورما پر گوشت تاجر معین قریشی کیس کو متاثر کرنے کا بھی الزام لگا تھا۔ ایسے میں اب مانا جا رہا ہے کہ جلد ہی ورما کے خلاف سی بی آئی معاملہ درج کر سکتی ہے۔ ورما اور استھانہ کو حکومت نے 23 اکتوبر کو نصف رات کی گئی کارروائی میں ہٹا دیا تھا۔ دونوں کو چھٹی پر بھیجے جانے سے پہلے حالات ایسے ہو گئے تھے کہ سی بی آئی کے دونوں اعلیٰ افسر ایک دوسرے کو گرفتار کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔ راکیش استھانہ کے خلاف تو ایف آئی آر تک درج ہو گئی تھی، ان کے کچھ قریبی افسر کو گرفتار کر بھی لیا گیا تھا۔

سی بی آئی میں مچے ہنگامہ سے پورا ملک ششدر تھا کہ آخر ملک کی سرکردہ جانچ ایجنسی کی ساکھ کس طرح زوال پذیر تھی۔ یوں بھی سی بی آئی کے اس گھمسان کے دور رس نتائج ہوں گے۔ ویسے تو سی بی آئی کی تشکیل اور اس کے ضابطوں سے متعلق تنازعے ہوتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سیاسی پارٹیوں پر بھی سیاسی یا انتخابی فائدے کے لیے سی بی آئی کے استعمال کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ ساتھ ہی حکومتیں سیاسی حریفوں سے بدلہ لینے کے لیے بھی سی بی آئی کا استعمال کرتی رہی ہیں۔