نوٹ بندی: کوئی تو بتائے قومی معیشت کو پٹری سے کیوں اتار دیا ؟

نوٹ بندی کی وجہ سے قومی معیشت کی رفتار تھم گئی ہے، چھوٹی صنعت تباہ ہو گئی ہے اور متعدد لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں لیکن آج تک کسی کو نہیں معلوم یہ کیوں کیا گیا اور اس کا فائدہ کس کو ہوا؟

آج پانچ سو اور ایک ہزار کی کرنسی کی دوسری برسی ہے ۔ ویسے وقت کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے دو سال پہلے آج ہی کے دن نوٹ بندی کا اعلان کر کے قومی معیشت کی رفتار تو سست کر ہی دی ساتھ میں متعدد خاندانوں کی زندگی بھی پٹری سے اتار دی ۔نریندر مودی کے اس ایک فیصلہ نے ملک کی ترقی پر ایسے بریک لگا ئے کہ کھریلو اور چھوٹی صنعت پوری طرح تباہ ہو گئی ۔اس فیصلہ نے جہاں کئی لوگوں کی جانیں لی وہیں کئی اچھے کاروباریوں کی معاشی حالت اتنی خراب کر دی کہ ان کو سائکل رکشا چلانے پر مجبور ہونا پڑا۔

8 نومبر 2016 کو رات 8 بجے نریندر مودی نے یہ اعلان کیا کہ آج سے پانچ سو اور ہزار کے نوٹ بند کئے جاتے ہیں اور آج آدھی رات سے یہ ردی ہو جائیں گے ۔ جن کے پاس یہ نوٹ ہیں وہ ان کو بینکوں سے بدلوا سکتے ہیں ، اس کے لئے ساڑھے چار ہزار روپے کی حد طے کی گئی اور اپنی ضرورت کے پیسہ بینک سے نکال سکتے ہیں ۔میں دفتر میں تھا جس وقت یہ خبر آئی اور مجھے ایک دم سے ساری صورتحال سمجھ نہیں آئی۔ اس خبر کو سمجھنے کے لئے سیاسی رہنماؤں کو فون کر رہا تھا ساتھ میں ایجنسی اور ویبسائٹ کی خبروں پر بھی نظریں جمائے ہوئے تھا کہ اتنے میں اس خبر کی تصدیق کے لئے اہلیہ کا فون آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے خبریں آنی شروع ہو گئیں کہ دوکان داروں نے پانچ سو اور ہزار کے نوٹ لینے سے انکار کر دیا ہے، پیٹرول پمپ پر مارا ماری ہے ، دوکانوں پر ہنگامہ ہے ، پھر خبر آئی کہ نمک بھی مارکیٹ سے غائب ہو گیا ہے۔ ارے صاحب !عجیب افرا تفری کا عالم تھا۔ میں نے بی جے پی کے اپنے ایک جاننے والے سیاسی رہنما کو فون کیا اور اس فیصلہ پر ان کے تعاثرات جاننے چاہے تو وہ بھڑک گئے اور کہنے لگے یہ فیصلہ صحیح نہیں ہے اس سے افرا تفری مچ جائے گی۔ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ بی جے پی کا رکن اپنی حکومت کے خلاف اتنا چراغ پا ہو سکتا ہے ۔ اس کے بعد میں نے بی جے پی کے ایک رکن پارلیمنٹ کو فون کیا ، انہوں نے مجھے اس فیصلہ کے وہ فوائد سمجھانے شروع کئے جو اگلے دن صبح سے بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگوں نے عوام کو سمجھانے شروع کئے۔ اگلے دن جہاں لوگ اپنے ہی پیسہ کو لے کر پریشان تھے اور بینکو کی لائنوں میں لگے ہوئے تھے وہاں بی جے پی کے رہنما بڑی محنت اور ایمانداری سے یہ پیغام دینے میں مصروف تھے کہ اس تھوڑی سی تکلیف سے ملک سے دہشت گردی ختم ہو جائے گی ، نقلی کرنسی ختم ہو جائے گی ، بد عنوانی کا تو ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہی ہو جائے گا اور دہشت گردوں کا پیسہ ردی ہو جائے گا۔ باہر سے کالا دھن لانے والی حکومت اب یہ تشہیر کر رہی تھی کہ اس فیصلہ سے کالا دھن ختم ہو جائے گا ۔ حب الوطنی کے دعوں کے بیچ لوگ اس بینک سے اس بینک کے چکر لگاتے رہے ، کاروباری کے پاس اپنے ملازمین کو دینے کے لئے پیسہ نہیں تھا۔ ملازمین چیک لینے سے اس لئے ڈر رہے تھے کہ کون لائن میں لگے گا ۔ اس کے بعد حکومت کی جانب سے رقم نکالنے اور رقم جمع کرانے کے لئے ترمیمات لانے کا سلسلہ شروع ہوا اور ایک کے بعد ایک ترمیم لائیں گئی لیکن عوام کو کوئی راحت نہیں ملی۔ ہر بینک کی لائن میں دو چار لوگ ایسے ضرور کھڑے ہوتے تھے جو لائن میں کھڑے ہو کر حکومت کے اس فیصلہ کے فوائد کی تشہیر کرتے نظر آتے تھے اور یہ سمجھانے کی کوش کرتے تھے کہ ملک کے لئے یہ تکلیف اٹھانی کتنی ضروری ہے ۔

جب لائنیں لگنی بند ہو گئیں اور پیسہ بدلوانے کی مدت ختم ہو گئی تو لوگوں کو اندازہ ہوا کہ ان کا تو سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ جن کے پاس گھر میں کچھ پیسہ جمع تھا وہ بینک کی نظر ہو گیا۔ جن کا چھوٹا موٹا کاربار تھا وہ پیسہ کی کمی کی وجہ سے بند ہو گیا اور اس کاروبار کے بند ہونے سے ایک بڑی تعداد میں لوگ بے روزگار ہو گئے ۔ آخر میں خبر آئی کہ بینک کے پاس سارا پیسہ واپس آ گیا یعنی کوئی کالا دھن نہیں تھا، دہشت گردوں کی کمر نہیں ٹوٹی بلکہ کچھ تجزیہ نگاروں نے یہاں تک لکھا کہ اس فیصلہ سے دہشت گردوں کو فائدہ ہوا کیونکہ جب بھی بڑی کرنسی بازار میں آتی ہے اس سے بدعنوانی ہی بڑھتی ہے ۔ ان کے بقول دہشت گردوں کو اب ایک ہزار کی موٹی گڈی کی جگہ دو ہزار کی پتلی گڈی لے جانے میں سہولت ہو گی اور نقلی نوٹ چھاپنے والوں کو اب پہلے کے مقابلہ آدھی تعداد ہی چھاپنی پڑے گی ۔

میرے کئی واقف کار ایسے ہیں جو نوٹ بندی کے فیصلہ سے پہلے خوشحال زندگی گزار رہے تھے اور آج مہینے میں ایک مرتبہ کسی مدد یا نوکری کے لئے وہ فون ضرور کرتے ہیں ۔ اس فیصلہ کے بعد ملک کی معیشت کس جانب گامزن ہے اس کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جتنے بھی سرکاری اقتصادی اعداد و شمار آئے ہیں انہوں نے اس فیصلہ سے ہونے والے نقصان کی طرف کھل کر اشارہ کیا ہے ۔ یہ اسی فیصلہ کا نتیجہ ہے کہ آج حکومت اور آر بی ٓئی آمنے سامنے ہیں ۔ حکومت کو اب نئے منصوبوں کے لئے پیسہ چاہئے اور وہ یہ پیسہ آر بی آئی سے مانگ رہی ہے لیکن آر بی آئی کے پاس حکومت کو دینے کے لئے پیسہ نہیں ہے۔ وزیر اعظم نے کن لوگوں اور کن گھرانوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے یہ فیصلہ لیا تھا اس کا علم تو ان کو ہی ہو گا لیکن اس فیصلہ سے ملک کو زبر دست نقصان ہوا ہے ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ آج بھی حکومت کو اپنی غلطی کا احساس نہیں ہے۔

سب سے زیادہ مقبول