ان بدزبانوں کو کون لگام دے گا! .. سہیل انجم

سوشل میڈیا

بی جے پی کے رہنما جس طرح کے بیانات آئے دن دیتے ہیں اس سے ایسا لگتا ہے کہ پارٹی کے اندر کچھ منہ زوروں کو چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ جو چاہیں کہیں اور جس کو چاہیں گالیاں دیں۔

ایسا لگتا ہے جیسے بی جے پی کے بعض لیڈروں کی زبان میں خارش ہوتی ہے اور وہ خارش اس وقت تک ختم نہیں ہوتی جب تک کہ وہ کوئی متنازعہ اور قابل اعتراض بیان نہ دے دیں۔ یوں تو یہ سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے۔ لیکن مرکز میں نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت کے قیام کے بعد تو یہ سلسلہ خاصا تیز ہو گیا ہے۔ جب اشتعال انگیزی کا طوفان اپنی حدوں کو عبور کرنے لگتا ہے تو حکومت کے کسی ذمہ دار کی جانب سے نمائشی طور پر ایک تنبیہی بیان آجاتا ہے اور کہا جاتا ہے ہم ایسے بیانات کی تائید نہیں کرتے اور یہ کہ ایسے بیان دینے سے بچنا چاہیے۔ اس کے بعد چند روز تک خاموشی رہتی ہے۔ لیکن پھر زبان کی خارش کچھ نہ کچھ اگلوا دیتی ہے۔

ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ان ساڑھے تین برسوں میں سیاست کو اتنی نچلی سطح تک پہنچا دیا گیا ہے کہ ماضی میں جس کی مثال نہیں ملتی۔ اور افسوسناک بات یہ ہے کہ وزیر اعظم مودی خود اس اشتعال انگیز برگیڈ کے سردار بنے ہوئے ہیں۔ وہ بھی انتخابی اور سیاسی مفاد کی خاطر اکثر و بیشتر شائستگی کی پٹری سے اترتے رہتے ہیں۔ ابھی گجرات کے حالیہ انتخابات میں تو انھوں نے ریکارڈ ہی توڑ دیا۔ کیسی کیسی بے سر پیر کی باتیں انھوں نے نہیں کیں۔ لہٰذا جب وہ خود، جو کہ اس برگیڈ کے سردار ہیں، زبان درازی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو ان کے پیادے تو کریں گے ہیں۔ اشتعال انگیزی کا حالیہ دورہ سب سے پہلے مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڑے پر پڑا۔ انھوں نے کہا کہ ہم لوگ آئین بدلنے آئے ہیں اور اسے بدل کر رہیں گے۔ وہ یہیں نہیں رکے بلکہ انھوں نے سیکولر نواز قوتوں کو، چاہے وہ نمائشی سیکولر ہی کیوں نہ ہوں، گالی دے دی۔ انھیں یہ کہنے میں کوئی شرم نہیں آئی کہ جو لوگ سیکولرزم کی بات کرتے ہیں انھیں اپنے والدین کا پتا نہیں۔ یہ تو سراسر ’’حرامی‘‘ کہنا ہوا۔ اسی انداز میں ایک بار مرکزی وزیر سادھوی نرنجن جیوتی نے بھی اپنی ذہنی خباثت کا مظاہرہ کیا تھا اور ’’رام زادے اور حرام زادے‘‘ والا جملہ ادا کیا تھا۔ اس وقت جب اس پر زبردست ہنگامہ ہوا تھا تو وزیر اعظم مودی نے یہ کہہ کر پارلیمنٹ میں ان کا دفاع کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ سماج کے جس طبقے سے آتی ہیں اس کے پیش نظر انھیں معاف کیا جانا چاہیے۔ کافی ہنگامہ ہونے پر نرنجن جیوتی نے لولا لنگڑا اعتذار پیش کیا تھا۔ اب جبکہ ہیگڑے کے بیان پر ہنگامہ ہوا تو بی جے پی نے خود کو ان کے بیان سے الگ کر لیا۔ یہ خوب تماشہ ہے۔ پہلے الٹے سیدھے بیانات دلوائے جائیں اور پھر جب طوفان اٹھ کھڑا ہو تو اس سے خود کو الگ کر لیا جائے۔ یوں تو بی جے پی اور آر ایس ایس والے رپورٹیں لکھوانے میں بہت تیز ہیں۔ اگر کہیں کسی دوسری پارٹی یا دوسری کمیونٹی کے کسی شخص کے بیان پر انھیں اعتراض ہے تو یہ کہہ کر رپورٹیں لکھوا دی جاتی ہیں کہ ہمارے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ لیکن جب یہ دوسروں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں تو گویا وہ کوئی جرم نہیں ہوتا۔

ہیگڑے کے بیان سے اٹھے طوفان کی گرد ابھی بیٹھی بھی نہیں تھی کہ الور سے بی جے پی کے ایم ایل اے بنواری لال سنگھل نے ملک کی بڑھتی آبادی کے لیے مسلمانوں کو مورد الزام ٹھراتے ہوئے کہہ دیا کہ مسلمان اس ملک پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ایک منصوبے کے تحت زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں تاکہ صدر، وزیر اعظم اور وزرائے اعلی کے عہدوں پر مسلمان فائز ہو جائیں۔ انھوں نے حساب کتاب بھی لگا دیا اور دعوی کر دیا کہ 2030 تک ہندوستان پر مسلمانوں کا قبضہ ہو جائے گا۔ بی جے پی کے ایم پی ونے کٹیار نے بھی ہاں میں ہاں ملائی اور کہا کہ آبادی کو کٹرول کرنے کے لیے ایک پالیسی وضع کی جانی چاہیے۔ وہ تو مسلم مخالف بیانات میں ماہر ہیں ہی۔ ان کو ایک موقع ملا اور انھوں نے بیان داغ دیا۔ سنگھل کے بیان پر مرکزی وزیر اور اشتعال انگیز بیانات کے لیے بدنام گری راج سنگھ بھی کود پڑے۔ انھوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ مسلمانوں کی بڑھتی آبادی ملک کے لیے خطرہ ہے۔ وہ اس سے پہلے بھی اس قسم کی اشتعال انگیزی کرتے رہے ہیں۔ کبھی مسلمانوں کو پاکستان جانے کا مشورہ دیتے ہیں تو کبھی کوئی اور شوشہ چھوڑتے ہیں۔ کوئی بھی ذی شعور انسان ملک میں ہندووں اور مسلمانوں کی آبادی کے تناسب کے پیش نظر یہ ماننے کو تیار نہیں ہوگا کہ 2030 تک ملک میں مسلمانوں کی اکثریت ہو جائے گی اور وہ ہندوستان پر قبضہ کر لیں گے۔ مردم شماری کی جو گزشتہ رپورٹ جاری ہوئی تھی اس کو ہی دیکھ لیجیے۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ لیکن مسلمانوں کے خلاف ہندووں کے ایک طبقے کو ورغلانے کے لیے اس قسم کی بے بنیاد باتیں پھیلائی جاتی ہیں اور انھیں کوئی روکنے والا نہیں ہے۔

گری راج سنگھ نے دو سال قبل حاجی پور میں ایک پریس کانفرنس کے بعد بعض میڈیا نمائندوں سے آف دی ریکارڈ بات کرتے ہوئے اور بڑے موڈ میں قہقہہ لگاتے ہوئے کانگریس صدر سونیا گاندھی کے بارے میں کہہ دیا تھا کہ ’’اگر راجیو گاندھی نے کسی نائجیرین خاتون سے شادی کی ہوتی اور وہ گوری چمڑی کی نہ ہوتی تو کیا کانگریسی اسے اپنا قائد تسلیم کر لیتے‘‘۔ ان کی اس بات پر ان کے ساتھ ساتھ ان کے حواریوں نے بھی فلک شگاف قہقہہ لگایا تھا۔ انھوں نے اس کے علاوہ راہل گاندھی کے بارے میں کہا تھا کہ وہ کہیں ’’ ہنی مون‘‘ منا رہے ہوں گے۔ جب کسی نے پوچھا کہ شادی تو ہوئی نہیں پھر ہنی مون کیسے۔ اس پر انھوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ہنی مون کے لیے شادی کرنا ضروری تھوڑی ہے۔ گویا انھوں نے ایک ہی مجلس میں ماں بیٹے دونوں کی شان میں گستاخی کی تھی۔ ایک کے رنگ و روپ کو نشانہ بنایا تو دوسرے کے کردار کو۔ ظاہر ہے اس پر ہنگامہ ہونا تھا، سو ہوا اور خوب ہوا۔ پھر بی جے پی نے روایتی انداز میں ان کے بیان سے خو دکو الگ کر لیا۔

لگے ہاتھوں کھتولی اترپردیش سے بی جے پی کے ایم ایل اے وکرم سینی کی بھی اشتعال انگیزی ملاحظہ کر لیجیے۔ انھوں نے میرٹھ میں ایک جلسے میں بولتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ہندووں کا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’کچھ نالائق نیتاؤں نے لمبی داڑھی والوں کو یہاں روک کر رکھا۔ ان لوگوں نے زمین اور دولت ہتھیائی۔ اگر یہ نہ ہوتے تو یہ سب ہمارا ہوتا۔ میں کٹر ہندوتووادی ہوں۔ یہ میری پہچان ہے۔ یہ ہندووں کا دیش ہے۔ جس کی جتنی لمبی داڑھی اس کو اتنا لمبا چیک‘‘۔ اس بیان میں وہ کن لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس قسم کی اشتعال انگیزی وہ پہلے بھی کرتے رہے ہیں۔ ایک بار انھوں نے دھمکی دی تھی کہ وہ گائے ذبح کرنے والوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالیں گے۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ بندے ماترم گانے سے انکار کرنے والوں کو چھوڑیں گے نہیں۔ معلوم ہونا چاہیے کہ مظفر نگر فساد میں ان مہاشے کا بھی ہاتھ تھا۔ ان پر فساد بھڑکانے کے الزام میں کیس ہوا تھا۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ لوگ صرف مسلمانوں یا اپنے سیاسی حریفوں کی شان میں ہی گستاخی کرتے ہوں۔ ان کی زبانیں اتنی لمبی ہیں کہ یہ کسی کو بھی نہیں چھوڑتے۔ اتر پردیش سے بی جے پی کے ایک اور ایم پی نیپال سنگھ نے فوجیوں کی شان میں گستاخی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’وہ آرمی میں ہیں تو مریں گے ہی‘‘۔ انھوں نے اپنی بات کی تائید میں سوال کیا کہ کوئی ایسا ملک بتا دیں جہاں تصادم ہو اور فوج کا آدمی نہ مرتا ہو۔ خیال رہے کہ نیپال سنگھ اسی پارٹی کے ایم پی ہیں جس نے ملک میں نقلی دیش بھکتی کا طوفان کھڑا کر رکھا ہے اور جس نے ’’فوجیوں کے سمان‘‘ کا ڈھونگ رچا رکھا ہے۔ کیا بی جے پی لیڈروں کے ایسے بیانات لوگ فراموش کر چکے ہیں کہ ہم سینکوں کی بے عزتی برداشت نہیں کریں گے۔ اگر وہ ایک ماریں گے تو ہم دس ماریں گے۔ جب نوٹ بندی کے بعد بینکوں کے سامنے لمبی لمبی قطاریں لگی تھیں تو یہی لوگ کہتے تھے کہ سرحد پر جوان مر رہے ہیں تم لائن میں نہیں لگ سکتے۔ یعنی اس طرح ’’فوجیوں کے سمان کی رکشا‘‘ کی بات کرتے تھے۔ لیکن اب اسی پارٹی کے لیڈر فوجیوں کی بے عزتی کر رہے ہیں اور کسی کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا ہے۔

یہ جو مثالیں دی گئی ہیں ان سے مذکورہ فسطائی جماعت کی ذہنیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ پارٹی کے اندر کچھ منہ زوروں کو چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ جو چاہیں کہیں اور جس کو چاہیں گالیاں دیں۔ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ کسی بھی ’’بد زبان‘‘ کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہوا۔ ایکشن ہو بھی کیسے جب ملک کے وزیر اعظم ہی ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔ اس قسم کے بیانات پشت پناہی نہیں تو اور کیا ہیں کہ ’’دلتوں کو مت مارو مارنا ہے تو مجھے مارو‘‘۔ صرف وہی نہیں بلکہ دوسرے لیڈر بھی شرپسند ذہنیت کے ان عناصر کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔

سب سے زیادہ مقبول