مولانا آزاد:بے مثال خطیب،مایہ ناز صحافی اورعظیم مجاہد آزادی... یوم پیدائش پر خاص

مولانا آزاد نے ہندوستان کی جد وجہد آزادی میں بہت اہم رول ادا کیا، بلکہ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ مولانا کی آزادی کے لئے کی جانے والی جد وجہد کے ان گنت نقوش مہاتما گاندھی جی پر دیکھے جاسکتے ہیں۔

By قومی آوازبیورو

مکہ معظمہ میں 11 نومبر 1888 کو پیدا ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے۔ وہ ایک مجاہد آزادی ہونے کے ساتھ ساتھ بے مثال خطیب، عظیم صحافی، دانشور اور عالم دین بھی تھے۔ 7 سال کی عمر میں وہ کلکتہ آئے جہاں ان کی باضابطہ تعلیم شروع ہوئی۔ مولانا آزاد نے حدیث اور فقہ کا گہرا مطالعہ کیا اور ان کا یہ عقیدہ تھا کہ قرآن ہماری زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کرتا ہے۔ ان کا یہ عقیدہ ان کی تحریروں میں بھی نظر آتا ہے۔ ادبی، سماجی، تاریخی اور سیاسی مضامین میں اکثر وہ قرآن کے حوالے دیا کرتے تھے۔ قومی تحریک کے حق میں اور برطانوی حکومت کے خلاف انھوں نے ایک تحریری مہم چلا رکھی تھی جس کے لیے انھیں قید و بند کی صعوبتیں بھی جھیلنی پڑیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ مولانا آزاد نے ہندوستان کی جد وجہد آزادی میں بہت اہم رول ادا کیا، بلکہ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ مولانا کی آزادی کے لئے کی جانے والی جد وجہد کے ان گنت نقوش مہاتما گاندھی جی پر دیکھے جاسکتے ہیں۔ آپ نے اس ملک و قوم کے لئے جو خدمات انجام دی ہیں وہ کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں۔ جہاں تک ان کی ابتدائی تعلیم و تربیت کا سوال ہے، باقاعدہ تعلیم کولکاتا میں شروع ہوئی ۔ اللہ نے انہیں حافظہ اور ذہانت کی دولت سے فراخ دلی کے ساتھ نوازا تھا ۔ انہوں نے تیرہ چودہ برس کی عمر میں فقہ ، حدیث ، منطق اور ادبیات پر عبور حاصل کرلیا تھا ۔ 1902 تک آپ کی ابتدائی تعلیم کا سلسلہ مکمل ہوچکا تھا ۔ اپنے والد مولانا خیر الدین کے علاوہ مولوی ابراہیم ، مولوی محمد عمر ، مولوی سعادت حسن وغیرہ سے ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔ آپ نے دس گیار برس کی عمر میں شعر گوئی کا آغاز کیا اور مولوی عبدالواحد کی تجویز پر آزاد تحلص پسند کیا ۔ بعد میں نثر نگاری کی طرف توجہ کی ۔

مولانا ابوالکلام آزاد نے قرآن و حدیث و فقہ کا گہرا مطالعہ کیا۔ مولانا کا عقیدہ تھا کہ قرآن ہماری زندگی کے ہر شعبے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ مولانا ادبی، سماجی، تاریخی اور سیاسی تحریروں میں قرآن کے حوالے موجود ہیں۔ رانچی قیام کے زمانے میں ترجمان القرآن ترتیب دیا اور فقہ اسلامی کی روشنی میں ’الصلوۃ و الزکوۃ‘ اور ’النکاح‘ وغیرہ تصانیف مکمل کی ۔ مولانا کی زندگی کا بڑا حصہ ادبی اور سیاسی میدان میں گزرا۔ آپ نے بہت سے رسالوں میں مضامین لکھے اور کئی ادبی رسالے شائع کئے۔ مولانا نے سب سے پہلا رسالہ ماہ نامہ ’’نیرنگِ عالم‘‘ 1899 میں جاری کیا ۔ اس وقت مولانا کی عمر صرف گیارہ برس تھی ۔یہ رسالہ سات، آٹھ مہینے جاری رہا بعد میں المصباح، احسن الاخبار ہفت روزہ پیغام، الجامعہ وغیرہ رسائل میں خدمت انجام دیں۔

1909 میں ’’لسان الصدق‘‘ ماہ نامہ رسالہ کا پہلا شمارہ کلکتہ سے شائع ہوا ۔ اس کا اول مقصد اصلاح معاشرت ، دوسرا مقصد ترقی ، تیسرا مقصد علمی ذوق کی اشاعت اور چوتھا مقصد تنقید یعنی اردو تصانیف کا منصفانہ جائزہ لینا ۔ مولانا نے 31 جولائی 1906 ء کو ہفت روزہ ’’الہلال‘‘ کا پہلا شمارہ شائع کیا ۔ اس کا اہم مقصد ہندوؤں اور مسلمانوں میں اتحاد پیدا کرنا تھا ۔ الہلال مسلمانوں کی ملی غیرت ، ایمانی حرارت اورمذہبی حمیت کا بڑا محاذ بن گیا ۔ الہلال میں ادبی ، علمی ، سیاسی اور تاریخی مضامین شائع ہوتے تھے ۔ سماجی و تہذیبی مسائل پر اظہار خیال ہوتا ۔ مختصراً یہ کہ الہلال نے اردو صحافت کو نیا راستہ دکھایا ۔ الہلال ہندوستان کا پہلا اخبار تھا جس نے ہندوستانی مسلمانوں کو ان کے سیاسی و غیر سیاسی مقاصد کی تکمیل اور اپنے اعمال میں اتباع شریعت کی تلقین کے ساتھ ساتھ ادبی ، علمی ، سیاسی اور تاریخی مضامین بھی شائع ہوتے تھے ۔ حکومت نے الہلال پریس کو ضبط کرلیا تو مولانا نے ’’البلاغ‘‘ کے نام سے دوسرا اخبار جاری کیا۔ جس میں ادب ، تاریخ، مذہب اور معاشرت کے مسائل بیان کئے جاتے تھے ۔ البلاغ کو مذہبی تبلیغ کا ذریعہ بنایا گیا ۔ جنگ آزادی کی طویل جد وجہد میں جو شعلہ بیان مقرر پیدا ہوئے ان میں مولانا کا نام سرفہرست ہے ۔ مولانا ایک بے باک مقرر تھے ۔ جب وہ کسی موضوع پر بات کرتے تھے تو ان کا ایک خاص پروقار اور پرجلال انداز ظاہر ہوتا تھا ۔

مولانا آزاد کی تعریف میں ڈاکٹر کیٹلر کا کہنا ہے کہ انھوں نے آج تک ایسا مقرر نہیں دیکھا جس کی زبان میں مولانا کی زبان سے زیادہ مٹھاس ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ "میں نے جب بھی ان کی تقریر سنی ہے ہر بار محسوس کیا ہے کہ وہ کسی بھی موضوع پر بول رہے ہیں ، زبان ان کے تابع ہوتی ہے ۔ غالباً مولانا پہلے جلیل القدر مسلم رہنما تھے جنھوں نے اپنی زور قوت کے ساتھ ہندوستان کی متحدہ قومیت کا تصور پیش کیا ۔ اور اسے ملک کے عوام و خواص میں رائج و راسخ کرنے کے لئے اپنی تمام تر ذہنی ، علمی اور استدلالی صلاحیتیں صرف کردیں ۔" مولانا آزاد نے سیاست کے میدان میں اپنی مستقل مزاجی کے ساتھ قید و بند کی صعوبتوں کو برداشت کرکے حب الوطنی اور قومی یکجہتی کے اعلی سے اعلی مثالیں پیش کیں ۔ مولانا کے کارناموں میں ’’غبار خاطر‘‘ کو ایک اہم امتیازی مقام حاصل ہے ۔ غبار خاطر مولانا کے اس کے خطوط کا مجموعہ ہے جو انہوں نے دوسری جنگ عظیم کی نظربندی کے دوران مولانا حبیب الرحمن شروانی کو لکھے ۔ اس وقت مولانا احمد نگر کے قلعہ میں قید تھے ۔ غبار خاطر میں جو خطوط شامل ہیں وہ خطوط نہیں بلکہ مختلف موضوع پر انشایئے ہیں ، بڑی تعداد میں غبار خاطر کے خطوط نثری نظم کی تعریف پر پورے اترتے ہیں ۔ غبار خاطر مولانا کے خطوط کا پہلا مجموعہ تھا جسے اجمل خان نے مرتب کرکے 1946 میں شائع کیا ۔ دوسرا مجموعہ کاروان خیال ہے ، جسے شاہد خاں شروانی نے شائع کیا تھا۔