سلام میرے آقا!

نوجیون

لیجئے جناب کسانوں کے سارے مطالبات مان لئے گئے!

حکومت تو ایسی ہی ہونی چاہئے کہ جب تک کچھ لوگ خود کشی کر کے اپنی جان نہ دے دیں، جب تک وہ اپنے گھر بار چھوڑ کر کئی میل پاؤں میں چھالے پڑ جانے کے باوجود پیدل مارچ کر کے اپنے آقا کے دربار نہ پہنچیں اور وہاں دہائی نہ دیں کہ آقا ہم بہت پریشان ہیں، آپ کی بہت مہربانی ہوگی اگر آپ ہمارا وہ قرض معاف کر دیں جو ہم نے، آپ کے اور آپ کے امیر دوستوں اور ان کے خاندان کے افراد کے پیٹ بھرنے کے لئے لیا تھا۔ ہمیں یہ امید تھی کہ اس قرضہ سے ہمارا گھر چل جائے گا لیکن اس نے تو ہمارے لئے اور پریشانیاں پیدا کر دیں۔ قرضہ کے بعد ہم نے جو سب کے لئے غلہ پیدا کیا اس سے لوگوں کی ضرورتیں تو پوری ہو گئیں لیکن ہمیں کئی کئی دن بھوکے رہنا پڑا اور ہم سے جو زیادہ سمجھدار تھے، جو یہ دیکھ سکتے تھے اور سمجھ سکتے تھے کہ آنے والے دنوں میں ان کے ساتھ کیا کچھ ہو سکتا ہے انہوں نے تو عدالت کے اس فیصلہ کا بھی انتظار نہیں کیا کہ اب آپ اپنی مرضی سے عزت کی موت مر سکتے ہیں بس انہو ں نے خاموشی سے گلے میں پھندا لگایا یا زہر کھایا اور اس قرضہ والی دنیا کو خدا حافظ کہا۔

ٹویٹڑ

ٹویٹڑ

مہاراشٹرا کے تقریباً 35ہزار کسان مسلسل چھہ دن پیدل چل کر اپنے مائی باپ اپنے آقا کے دربار پہنچے اور انہوں نے اپنی تکالیف کا رونا رویا۔ آقا کا دل پسیج گیا کہ اگر ان کو فی الحال خوش نہیں کیا تو ان جیسے اور بھی ناراض ہو سکتے ہیں اور وہ بھی یہاں آ سکتے ہیں، ہمارے عیش میں دخیل ہو سکتے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ کہ جب یہ لوگ یہاں آنے لگیں گے تو ہمارے بچوں کے لئے ہمارے دوستوں کے بچوں کے لئے کھانے کا سامان کو ن پیدا کرے گا۔ ظاہر ہے ان سب چیزوں سے ملک کا نقصان ہوگا کیونکہ اگر ہمارے پاس کھانے کا سامان نہیں ہو گا تو پھر ہم ملک کی ترقی پر کیسے دھیان دے سکتے ہیں۔ آقا نے فوراً فیصلہ لیا کہ ان کو فی الحال ایک میٹھی گولی دے دی جائے اور اعلان کر دیا جائے کہ ایک کمیٹی سارے مسئلے حل کر دے گی، بس یہ فوراً گھر جائیں اور دل لگاکر کام کریں۔ قرضہ معافی سے لے کر جو بھی معاملے ہوں گے ہم سب حل کریں گے اور ہاں یہ دھیان رکھا جائے کہ یہ لوگ اب پیدل واپس نہ جائیں بلکہ ان کے لئے خصوصی ٹرین کا انتظام کیا جائے کیونکہ اگر یہ پیدل گئے تو ان کے پاؤں کے چھالے بڑھ جائیں گے اور پھر یہ کئی دن تک کھیتوں میں صحیح کام نہیں کر پائیں گے جس کی وجہ سے پیداوار متاثر ہو گی اور ہمارے اور دوستوں کے بچوں کو صحیح وقت پر صحیح کھانا نہیں ملے گا۔ ارے یہ تو ہم سب مانتے ہیں کہ یہ ہمارے ’ان داتا ‘ ہیں۔

ان ’ان داتاؤں‘ کے رہنما بھی ہیں جو ان ’ان داتاؤں‘ کے سیلاب کو دیکھ کر اتنے خوش ہوئے کہ انہوں نے کہہ دیا کہ یہ ہندوستان کے نئے فوجی ہیں جو حکومتوں کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ یہ فوجی خوش ہو گئے کہ ان کا رہنما جو جہاز سے سفر کرتا ہے سمجھتا ہے کہ وہ کتنے طاقتور ہیں۔ یہ فوجی ’ان داتا‘ گھر پہنچ گئے ہیں اور ان کے پاؤں کے چھا لےابھی بھی رس رہے ہیں لیکن اب انہیں بغیر آرام کئے پھر سے کھیت میں جانا ہے اور اپنے آقاؤں اور ان کے دوستوں کے خاندان کے لوگوں کے لئے بہترین کھیتی کر کے اچھی اور شاندار پیداوار تیار کرنی ہے کیونکہ آقا نے خصوصی ٹرین سے انہیں گھر واپس بھیجا ہے۔ انہیں تو بس اسی بات پر سکون ہے کہ یہ پیدل چل کر آقا کے دربار پہنچے تو آقا نے انہیں پولس ولیس سے پٹوایا نہیں، دھکے نہیں دئے۔ انہیں اس سے کوئی مطلب نہیں کہ آقا کے کمرے میں کتنے ایئر کنڈیشن لگے ہوئے ہیں، آقا کی گاڑی کتنے لاکھ یا کروڑ کی ہے، آقا کے بچے کس اسکول میں پرھتے ہیں، آقا کے گھر میں کتنے ملازم ہیں بس خوشی اس بات کی ہے کہ وہ آقا کے پاس گئے تو آقا نے ان کا رونا سن لیا اور انہیں یہ امید بھی دلا دی کہ کمیٹی چھہ ماہ میں ان کو کچھ راحت دے گی۔ اب انہیں اور زیادہ محنت کے ساتھ اپنے آقا کے لئے کام کرنا ہے کیونکہ ان کے آقا کے پاس یہ ہنر تو ہے کہ روتے ہوئے بچے کوخالی فیڈر سے کیسے بہلایا جا سکتا ہے اور کیسے اس کی بھوک دور کی جا سکتی ہے۔ مثال مشہور ہے کہ بغیر روئے تو ماں بھی دودھ نہیں دیتی یہ تو آقا ہیں۔

سلام میرے آقا۔

سب سے زیادہ مقبول