بجٹ عوامی مسائل کا حل پیش کرنے سے عاری: مایاوتی

مایاوتی نے عام بجٹ کو 130 کروڑ شہریوں کے لئے مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ چند سرمایہ داروں اور امرا کو چھوڑ کر ملک کے غریب، ایماندار اور محنت کش عوام کے مسائل کا اس بجٹ میں کوئی حل پیش نہیں کیا گیا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

لکھنؤ: بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے مرکزی حکومت کی جانب سے سنیچر کو پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے والے بجٹ کو ملک کے 130 کروڑ شہریوں کے لئے مایوس کن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ چند سرمایہ داروں اور امرا کو چھوڑ کر اس بجٹ میں ملک کے غریب، ایماندار اور محنت کش عوام کے مسائل کا کوئی حل پیش نہیں کیا گیا ہے۔

مایاوتی نے سنیچر کو یہاں مرکزی بجٹ پر اپنے تبصرے میں کہا کہ ملک میں اس وقت مہنگائی،غریبی و بے روزگاری وغیرہ ملک کے سب سے بڑی مسائل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیش کئے گئے بجٹ میں بڑھتے ہوئے مسائل کا کوئی حل نہیں پیش کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی پریشان 130 کروڑ عوام کھانے کے لئے روٹی۔دال مانگ رہی ہے۔ حکومت اس کا بھی صحیح انتظام نہیں کرپارہی ہے۔ لوگوں کے پاس نہ تو کام ہے اور نہ ہی کسان و مزدور جیسے محنت کش لوگوں کو ان کی محنت کا مناسب عوض مل رہا ہے۔لوگوں کے ہاتھوں میں اپنی روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے نہ تو پیسہ ہے اور نہ ہی بازار میں ڈیمانڈ ہے جس سے ملک کی پوری معاشی حالت کافی خستہ ہے۔ اس کا صحیح حل اس بجٹ میں ڈھونڈھنا کافی مشکل ہے۔

مایاوتی نے کہا کہ اس بجٹ میں زیادہ تر روزگار کے مواقع کی کمی ہے۔ یہ ااج ملک کی اولین ضرورت ہے۔ یہ بجٹ اس عوامی تشویش سے عاری دکھائی دیتا ہے۔اس بجٹ میں ملک کی 130 کروڑ کی عوام کے لئے روزگار کے ذریعہ سے آٹا ۔دال فراہم کرنے کی موزوں تدابیر اختیار نہیں کئے گئے ہیں۔جو کہ کافی تشویش ناک ہے۔

بی ایس پی سپریمو نے کہا کہ انکم ٹیکس میں تھوڑی راحت دی گئی ہے لیکن اس کے ساتھ کافی سخت شرائط عائد کئے گئے ہیں۔ یہ چھوٹ چھوٹ آسان اور بغیر کسی شرط کے ہوتی تو بہتر ہوتا۔ساتھ ہی بینکوں میں صرف پانچ لاکھ روپئے تک کی جمع پوری رقم ہی محفوظ ہونے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔بینک میں عوام کی باقی جمع پونجی غیر محفوظ ہے۔ایسا کیوں؟

انہوں نے کہا کہ سرکاری اسپتالوں کی نجکاری عوام کے دکھ درد کو دور کرے گا یہ ممکن نظر نہیں آتا۔صرف سرکاری املاک کو فروخت کرتے رہنے سے ملک و عوام کا بھلا کیسے ہوسکتا ہے۔ یہ غور کرنے کی بات ہے۔