مودی حکومت کا بجٹ کھوکھلی باتوں کا ذخیرہ: راہل گاندھی

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بجٹ 2020-21 کو حکومت کی کھوکھلی باتوں کا ذخیرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ نے بجٹ پر جو لمبی تقریر پیش کی وہ الجھن پیدا کرتی ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے بجٹ 2020-21 کو حکومت کی کھوکھلی باتوں کا ذخیرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ نے بجٹ پر جو لمبی تقریر پیش کی وہ الجھن پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوانوں اور معیشت کی مضبوطی کے لئے اس بجٹ میں کوئی ٹھوس انتظام نہیں کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کے پارلیمنٹ میں 2020-21 کا بجٹ پیش کرنے کے بعد بجٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے گاندھی نے سنیچر کو پارلیمنٹ کے احاطہ میں صحافیوں سے کہا کہ بجٹ تقریر ڈھائی گھنٹے سے زیادہ وقت تک چلی۔ اتنی لمبی تقریر ہونے کے باوجود بجٹ میں معیشت کی بہتری کے لئے کوئی اقدام نہیں اٹھائے گئے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ بجٹ میں صرف لمبی بیان بازی ہوئی ہے اور یہ حکومت کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ملک میں آج سب سے بڑا بحران بے روزگاری کا ہے لیکن اس سے نمٹنے کے لئے بجٹ میں کوئی بھی انتظام نہیں ہے۔ معیشت کی ابتر صورت حال بھی سب کے سامنے ہے اور سے نکلنے کا کوئی انتظام یا حکمت عملی اس بجٹ میں نظر نہیں آتی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس بجٹ سے الجھن پیدا کر دی ہے اور کچھ بھی واضح نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا، ’’ کہا جا رہا تھا کہ ٹیکس نظام میں بہتری لائی جائے گی اور انکم ٹیکس کو آسان بنایا جائے گا لیکن اس میں ایک اور متبادل دیا گیا ہے۔ اس سے غفلت کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔‘‘

قبل ازیں، لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ادھیر رنجن چودھری نے بھی عام بجٹ 2020 کے حوالہ سے حکومت پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں صرف بڑی بڑی باتیں ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کو لمبا بنا کر صرف غفلت پیدا کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’کسی بھی اسکیم کے لئے کو ئی ہدف مقرر نہیں کرنا حکومت کی ناکامی کا مظہر ہے۔ بجٹ میں لوگوں کی جیب بھرنے اور تھالیوں میں کھانا دینے کا انتظام ہونا چاہئے تھا لیکن لوگوں کو مایوسی ہاتھ لگی ہے۔‘‘

راجیہ سبھا رکن اور کانگریس کے سینئر رہنما آنند شرما نے کہا کہ وزیر خزانہ بجٹ کا حساب کتاب سمجھانے میں ناکام رہی ہیں۔ حکومت خود کہتی ہے کہ گزشتہ برس نومبر تک بجٹ تخمینہ کے مقابلہ حاصل ہونے والا ریونیو 45 فیصد رہا ہے۔ یہ بہت بڑا فرق ہے اور حکومت کو سمجھنا چاہئے کہ صرف زور سے بولنے اور لفاظی کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

کانگریس رہنما اور لوک سبھا کے رکن گورو گگو ئی نے کہا کہ حکومت کو 2019 میں لوگوں نے بھاری اکثریت دی لیکن مایوس کن بجٹ نے لوگوں کی حمایت کی توہین کی ہے۔ بڑھتی مہنگائی کو قابو کرنے اور معیشت کی خستہ حالت کو ٹھیک کرنے کا کوئی منصوبہ عمل پیش نہیں کیا گیا ہے۔