مودی حکومت میں مہنگائی عروج پر، اشیائے خوردنی کی شرحِ مہنگائی 14 فیصد درج

دیہی اور شہری دونوں علاقوں کے لوگ دسمبر 2018 سےمسلسل مہنگائی کے سبب پریشان ہیں۔ خردہ مہنگائی کی شرح دیہی علاقوں میں 7.26 فیصد اور شہری علاقوں میں 7.46 فیصد رہی۔

وزیر اعظم نریندر مودی
وزیر اعظم نریندر مودی
user

یو این آئی

نئی دہلی: سبزیوں اور دالوں کی آسمان چھوتی قیمتوں کے درمیان دسمبر 2019 میں خردہ مہنگائی کی شرح ساڑھے پانچ سال کی اعلیٰ سطح 7.35 فیصد پر پہنچ گئی جبکہ اشیائے خوردنی کی شرحِ مہنگائی 6 سال سے زیادہ کے اعلیٰ ترین سطح 14.2 فیصد پر رہی۔ مجموعی خردہ مہنگائی کی شرح مسلسل پانچویں ماہ بڑھی ہے۔ گذشتہ دسمبر میں اس کی سطح جولائی 2014 کے بعد سے سب سے زیادہ تھی۔ کھانے پینے کی چیزوں کی شرحِ مہنگائی مسلسل 10 ویں ماہ بڑھی ہے جبکہ فروری 2019 میں یہ منفی تھی۔ یہ نومبر 2013 کے بعد عروج پر پہنچ چکی ہے۔

ملک میں کساد بازاری (مندی) کی بات حکومت قبول کرچکی ہے لہٰذا اب اس کے لیے یہ اعداد وشمار بے حد تشویشناک ہیں۔ مودی حکومت کی مدت کار میں پہلا موقع ہے جب کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتیں اس قدر بڑھی ہیں۔ مرکزی شماریات کےدفتر (این ایس ایس او) سے جاری اعداد وشمار کے مطابق دسمبر 2019 میں سبزیوں کی شرحِ مہنگائی 60.50فیصد رہی۔ اس کا مطلب ہے کہ دسمبر 2018 کے مقابلے گذشتہ ماہ سبزیوں کی قیمت 60.50 فیصد بڑھی۔ دالوں اور ان سے بننے والی چیزوں کی مہنگائی کی شرح 15.44 فیصد رہی۔

یہ مسلسل دوسرا مہینہ ہے جب خردہ اشیاء کی شرحِ مہنگائی دہائی میں رہی ہے۔ نومبر 2019 میں کھانے پینے کی چیزوں کی شرحِ مہنگائی 10.01 فیصد رہی تھی۔ ایک سال پہلے دسمبر 2018 میں یہ شرح 2.65 فیصد منفی تھی۔ خردہ مہنگائی کو شامل کرتے ہوئے مجموعی طورپر نومبر 2019 میں 5.54 فیصد اور دسمبر 2018 میں 2.11 فیصد تھی۔

دیہی اور شہری دونوں علاقوں کے لوگ دسمبر 2018 سےمسلسل مہنگائی کے سبب پریشان ہیں۔ خردہ مہنگائی کی شرح دیہی علاقوں میں 7.26 فیصد اور شہری علاقوں میں 7.46 فیصد رہی۔ خردہ مہنگائی کی شرح دیہی علاقوں میں 12.97 فیصد اور شہری علاقوں میں 16.12 فیصد تھی۔