وزیر خزانہ سیتا رمن نے پیش کیا 20 لاکھ کروڑ کا بیورا، غریبوں کے ہاتھ کچھ نہیں لگا!

طویل پریس کانفرس میں کمپنیوں کو راحت دینے تو خوب بات کی گئی لیکن ان کے لئے جو کام کرتے ہیں اور جو ان کا مال خریدتے ہیں ان کے لئے کچھ نہیں کہا گیا، نیز اس پیکیج میں سے غریبوں کے ہاتھ بھی کچھ نہیں لگا

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو قوم سے اپنے خطاب کےدوران جس 20 لاکھ کروڑ روپے کے اقتصادی پیکیج کا اعلان کیا تھا اس کا آج وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے بیورا پیش کیا۔ اس طویل پریس کانفرس میں کمپنیوں کو راحت دینے تو خوب بات کی گئی لیکن ان کے لئے جو کام کرتے ہیں اور جو ان کا مال خریدتے ہیں ان کے لئے کچھ نہیں کہا گیا۔

وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن اوروزیر مملکت خزانہ انوراگ ٹھاکر نے پریس کانفرنس میں اعلان کرتے ہوئے کہا کہ خود انحصار ہندوستان مہم کے تحت مختلف شعبوں کے لئے پیکیج کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ اس میں سب سے پہلے ایم ایس ایم ای (مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم اینٹرپرائزیز) کے لئے یہ اعلان کیا گیا ہے۔ دیگر شعبوں پر اگلے چند دنوں میں اعلانات ہوں گے۔

نرملا سیتارمن نے چھوٹی صنعتوں میں روح پھونکنے کے لئے بینکوں سے انہیں قرضہ دینے کی بات کہی اور ایم ایس ایم ای کی تعریف کو بھی تبدیلی کرنے کا اعلان کیا۔ صنعتوں کو کھڑا کرنے کے لئے انہیں پیسہ دینے کی بات تو کہی گئی لیکن ان صنعتوں میں کام کرنے والے اور ان کا مال خریدنے والوں کی کوئی بات نہیں کہی گئی۔

معیشت کو پٹری پر لانے کے لئے معیشت کے ماہرین یہ کہتے رہے ہیں کہ غریبوں اور مزدوروں کی جیبوں میں پیسہ ڈال دیجئے لیکن حکومت نے ایسا نہیں کیا بلکہ جو کمپنیاں پہلے ہی بینکوں کا پیسہ نہیں دے رہی تھیں اور گھاٹے میں چل رہی ہیں ان کو قرضہ دینے کی بات کہی گئی ہے اور یہ سب چیزیں گارنٹی کی شکل میں ہیں۔

قبل ازیں، پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے نرملا سیتا رمن نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سست پڑی معیشت کو پٹری پر لانے اور اس بحران کو ایک موقع کے طور پر تبدیل کرنے کے لئے 20 لاکھ کروڑ روپے کے اقتصادی پیکیج میں سے تین لاکھ کروڑ روپے کا کولیٹرل مفت قرض ایم ایس ایم ای کو دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ایم ایس ایم ای کی تعریف میں تبدیلی کرتے ہوئے درمیانے درجے انٹرپرائز کے کاروبار کی حد کو بڑھا کر 100 کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔

سیتا رمن نے کہا کہ اس مہم کے تحت ایم ایس ایم ای کے لئے تین لاکھ کروڑ روپے کاکولیٹرل مفت قرض دینے کا انتظام کیا گیا ہے۔ یہ قرض چار سال کے لئے ہو گا اور پہلے ایک سال پرنسپل ادا نہیں کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے تحت 100 کروڑ روپے کے کاروبار والے ایم ایس ایم ای کو 25 کروڑ روپے تک کا قرض ملے گا۔ بینکوں اور این بی ایف سی کے لئے سو فیصدضمانت احاطہ ہوگا۔ یہ منصوبہ 31 اکتوبر 2020 تک دستیاب ہوگا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی ایم ایس ایم ای کی تعریف میں تبدیلی کی گئی ہے۔ ایم ایس ایم ای کی نئی تعریف میں مائیکرو انٹرپرائز میں ایک کروڑ روپے تک کی سرمایہ کاری کی جا سکے گا اور اس کاروبار کی حد پانچ کروڑ روپے ہوگی۔ اسی طرح سے چھوٹی انٹرپرائز میں 10 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جا سکے گا اور اس کا کل سالانہ کاروبار 50 کروڑ روپے کا ہوگا۔ درمیانہ انٹرپرائز میں 20 کروڑ روپے تک کی سرمایہ کاری کرے گا اور اس کا کل کاروبار 100 کروڑ روپے تک کا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی پریشان حال ایم ایس ایم ای کی مدد کے لئے 20 ہزار کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس سے ایسے ایم ایس ایم ای کو فائدہ ہو گا جو این پی اے یا پریشان حال ہیں۔ اس سے دو لاکھ سے زیادہ ایم ایس ایم ای کو فائدہ ہو گا۔ ایم ایس ایم ای میں 50 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی جو بہتر کاروبار ہیں۔ ان کے لئے 10 ہزار کروڑ روپے کا فنڈ آف فنڈ قائم کیا جائے گا۔ اس ایم ایس ایم ای کو اسٹاک مارکیٹ میں درج کرانے میں مدد ملے گی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ایم ایس ایم ای کو مینوفیکچرنگ اور معیشت کے مرکزی دھارے میں لانے کے مقصد سے اب 200 کروڑ روپے تک کی سرکاری خریداری کا عالمی ٹینڈر جاری نہیں کیا جائے گا۔ یہ قدم خود کفیل ہندوستان اور میک ان انڈیا کی مدد کرنے والا ہے۔ اس ایم ایس ایم ای کا کاروبار بھی بڑھے گا۔

سیتا رمن نے کہا کہ این بی ایف سی، ہاؤسنگ فنانس کمپنیوں اور مائیکرو فائنانس اداروں کے لئے 30 ہزار کروڑ روپے کا خصوصی لیکویڈیٹی اسکیم شروع کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ این بی ایف سی کے ل 45 ہزار کروڑ روپے کا جزوی کریڈٹ گارنٹی اسکیم 2.0 شروع کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا متضاد حالاتمیں بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی آمدنی میں کمی آئی ہے۔ اس کے پیش نظر ان کمپنیوں کو 90 ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ دستیاب کرایا جا رہا ہے۔ پاور فائننس کارپوریشن اور آر ای سی کے ذریعے بجلی کی ترسیل کمپنیوں کو متعلقہ ریاستی حکومتوں کی ضمانت پر قرض دیا جائے گا۔

سیتا رمن نے کہا کہ تمام مرکزی ایجنسیوں جیسے ریلوے، روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی وے اور پی ڈبلیو ڈی کے ٹھیکیداروں کو راحت دی گئی ہے۔ ٹھیکیداروں کو چھ ماہ کی چھوٹ دی گئی ہے۔ ریئل اسٹیٹ کو بھی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس کے تحت ریرا میں رجسٹرڈ ان منصوبوں کو مکمل کرنے کی مدت چھ مہینہ بڑھائی جا رہی ہے جو 25 مارچ یا اس کے بعد مکمل ہونی تھی۔ اس کے لئے کسی بھی رئیل اسٹیٹ کمپنی کو ریرا آفس جانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ آن لائن نئی رجسٹر یشن سرٹیفکیٹ مل جائے گی۔ ٹھاکر نے کہا کہ 1.70 لاکھ کرروڑ روپے کے وزیراعظم غریب بہبود اسکیم شروع کی گئی تھی۔ اس کے تحت لوگوں کو امداد فراہم کی گئی ہے۔

(یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

    Published: 13 May 2020, 8:00 PM