امیتابھ بچن کی آواز ہی ان کی پہچان ہے... یوم پیدائش پر خاص

امیتابھ بچن نے خود کو کبھی گلوکار نہیں مانا اس لیے انھوں نے گلوکاری کی تربیت لینے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی ہوگی۔ وہ خود کو شوقیہ گلوکار ہی مانتے رہے۔

یہ محض اتفاق ہی تھا کہ فلم ’کبھی کبھی‘ (1976) میں یش چوپڑا، ساحر لدھیانوی کی نظم ’’کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے‘‘ امیتابھ کی آواز میں ریکارڈ کروانا چاہتے تھے۔ امیتابھ اس کے لیے راضی بھی ہو گئے۔ جب فلم ریلیز ہوئی تو خیام کی موسیقی سے سجے اس کے نغموں نے دھوم مچا دی۔ پھر بھی امیتابھ کی آواز میں پڑھی گئی وہ نظم فلم کے کسی بھی نغمے کے مقابلے کمزور نہیں پڑی۔

70 کی دہائی میں اداکار امیتابھ کی بڑھتی مقبولیت کے مدنظر موسیقار ان کی آواز میں ایک دو لائنیں نغموں میں شامل کرنے لگے۔ عدالت (1976) میں مکیش کے گائے گیت ’ہم کا ایسا ویسا نہ سمجھو ہم بڑے کام کی چیز‘ میں امیتابھ نے بھی کچھ الفاظ کی ادائیگی کی تھی۔ ایک یا دو انترے میں امیتابھ کی آواز کا استعمال ’امر اکبر انتھونی‘ اور ’دی گریٹ گیمبلر‘ میں بھی کیا گیا۔

لیکن راجیش روشن کی فلم ’نٹور لال‘ (1979) میں انھوں نے امیتابھ بچن سے باقاعدہ ایک نغمہ گانے کو کہا۔ فلم ریلیز ہوئی تو اس میں ’پردیسیا یہ سچ ہے پیا‘ کے علاوہ امیتابھ کی آواز میں گایا گیا نغمہ ’میرے پاس آؤ میرے دوستو ایک قصہ سنو‘ سپر ہٹ ثابت ہوئی۔ بچوں کے لیے گائے گئے اس نغمہ کو امیتابھ نے جس مستی میں کھلنڈر انداز کے ساتھ گایا اس سے ان کے شیدائی ان کی گلوکاری کے قائل ہو گئے۔

امیتابھ بچن نے خود کو کبھی گلوکار نہیں مانا اس لیے انھوں نے گلوکاری کی ٹریننگ لینے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی ہوگی۔ وہ خود کو شوقیہ گلوکا رہی مانتے رہے۔ اسی شوقیہ گلوکاری کو جب موسیقاروں نے تراشا تو کئی بے حد مقبول نغمے منظر عام پر آئے۔ سال 1981 میں فلم ’سلسلہ‘ سے امیتابھ نے اپنی آواز کی رینج سے سننے والوں کو متعارف کرایا تو انھیں سننے والے تمام لوگ جھوم اٹھے۔ موسیقار شیو ہری کی موسیقی سے سجی فلم ’سلسلہ‘ کے نغمے ’رنگ برسے بھیگے چنر والی رنگ برسے‘ نے دھوم مچا دی۔ فلم کوریلیز ہوئے قریب 41 سال ہو گئے ہیں لیکن ’رنگ برسے بھیگے چنر والی‘ ہولی کے موقع پر بجنا لازمی ہو چکا ہے۔

اسی فلم کا ایک اور نغمہ ہے ’نیلا آسماں کھو گیا‘ کبھی تنہائی میں یہ نغمہ سنیے، امیتابھ کی آواز دل میں گہرائی تک اتر جاتی ہے۔ اس نغمے نے یہ بھی احساس دلایا کہ امیتابھ مستی بھرے نغمے تو گاتے ہی ہیں لیکن سنجیدہ نغموں کے ساتھ بھی ان کی آواز پورا انصاف کرتی ہے۔

1981 میں آئی فلم ’لاوارث‘ میں موسیقار کلیان جی آنند جی نے بھی اداکار امیتابھ کو گلوکار امیتابھ بنایا۔ نتیجے میں جو نغمے سامنے آئے اس کے بول ہیں ’’میرے انگنے میں تمھارا کیا کام ہے‘‘۔ اسی طرح سال 1983 میں ریلیز ہوئی فلم ’پکار‘ میں موسیقار راہل دیو برمن نے امیتابھ کی آواز پر بھروسہ کیا۔ اس بھروسے نے تہلکہ مچا دیا۔ اس فلم میں امیتابھ کی آواز میں گایا نغمہ ’تو مائیکے مت جئیو، مت جئیو میری جان‘ اپنے وقت کا سپر ہٹ نغمہ ثابت ہوا۔

حیرانی کی بات یہ ہے کہ امیتابھ لوگوں کے سامنے گانے میں آج بھی شرماتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ صرف شوقیہ طور پر گاتے ہیں، وہ بھی تب جب ان سے فلمساز یا ہدایت کار گانے کو کہتے ہیں۔ لیکن اپنی عادت کے مطابق امیتابھ نے جب بھی کوئی کام اپنے ہاتھ میں لیا تو سنجیدگی سے اسے پورا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی جو آواز ریڈیو میں ٹھکرا دی گئی اسی آواز کو انھوں نے اپنی پہچان بنائی۔ پھر چاہے وہ نغمے گا رہے ہوں، ڈائیلاگ بول رہے ہوں یا گانے کے شروع اور درمیان میں شعر پڑھ رہے ہوں، ان کی آواز نے ہمیشہ غضب ڈھایا ہے۔

1984 کی فلم ’شرابی‘ کا نغمہ یاد کیجیے تو ’جہاں چار یار مل جائیں وہیں رات تو گزار‘ کیسے نہ یاد آئے گا۔ اس بار بپی لاہری نے امیتابھ کی آواز کا استعمال ایک اور سپر ہٹ گانے کے لیے کیا۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ اگر ہٹ کامک نغموں کی بات کریں تو شاید کشور کمار کے بعد امیتابھ کے نام ہی سب سے زیادہ ہٹ کامک نغمے ہوں گے۔ فلم ’جادوگر‘ (1989) میں ’پڑوسن اپنی مرغی کو رکھنا سنبھال‘ بھی امیتابھ کا گایا اسی طرز کا نغمہ ہے۔

90 کی دہائی میں کئی وجوہات سے امیتابھ کی اداکاری کا جادو زوال پر آ گیا تھا لیکن اس دور میں بھی ان کی آواز پر بھروسہ کرنے والے موجود تھے۔ 1996 میں ان کی آواز میں ایک غیر فلمی نغمہ کا البم جاری ہوا ’ایک رہے ایر ایک رہے بیر، ایک رہے پھتّے ایک رہے ہم‘۔ یہ نغمہ اب بھلے ہی بھلا دیا گیا ہو لیکن اپنے وقت میں خاصا مقبول رہا۔ کافی وقت بعد امیتابھ نے فلم ’باغبان‘ میں اپنی آواز کے جلوے دکھائے۔ ’ہولی کھیلے رگھوبیرا اودھ میں ہولی کھیلے‘ ہولی کے سب سے مقبول فلمی نغموں میں ایک بن گیا۔ اسی فلم کے ایک اور نغمہ ’میں یہاں تو وہاں، زندگی ہے کہاں‘ کو بھی امیتابھ نے آواز دی۔

امیتابھ نے اپنی آواز کی سنجیدگی کا کمال فلم ’نیشبد‘ (2007) میں بھی دکھایا۔ وشال بھاردواج کی موسیقی میں انھوں نے اپنے بہترین نغموں میں سے ایک ’روزانہ جئیں روزانہ مریں تیری یادوں میں ہم‘ گایا۔ اس کے بعد کے سالوں میں امیتابھ کی آواز کا جم کر فلموں میں استعمال ہوا۔ ان میں ’ڈپارٹمنٹ‘، ’کہانی‘، ’تین‘، ’بھوت ناتھ‘، ’وزیر‘، ’شمیتابھ‘، ’102 ناٹ آؤٹ‘، ’بڈھا ہوگا تیرا باپ‘، ’بول بچن‘ اور ’پِنک‘ شامل ہیں۔

دراصل اداکار امیتابھ کا قد ہمیشہ اتنا بڑا رہا کہ اس کے سایہ میں ان کی گلوکاری دبی رہی۔ فلمی نغموں کے علاوہ ان کی آواز میں ان کے والد ہری ونش رائے بچن کی نظمیں بھی خاصی مقبول ہیں۔ انھوں نے 20 گلوکاروں کے ساتھ مل کر ہنومان چالیسا بھی گایا ہے۔ اب وہ 76 سال کے ہو گئے ہیں۔ ادھر وہ پہلے کے مقابلے زیادہ فلموں میں نغمے گا رہے ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ ان کی آواز میں ابھی اور بہترین نغمے سننے کو ملیں گے۔

سب سے زیادہ مقبول