سعودی عرب: نجران میں حمیٰ صحرائی نقوش کا کھلا عالمی میوزیم

سعودی عرب کی قیادت نے نجران میں "حمیٰ کلچرل زون" کو رجسٹر کرکے اقوام متحدہ کی تعلیمی ، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (یونیسکو) کی عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں اس کا اندراج کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ
العربیہ ڈاٹ نیٹ
user

قومی آوازبیورو

الریاض: قومیں اپنی قدیم تہذیبوں کی تاریخ میں اپنی دلچسپی کا عملی مظاہرہ کرتی ہیں جس کے نتیجے میں وہ اپنی تاریخ میں گہرائی کے ساتھ وابستہ رہتی ہیں۔ قومیں اپنے ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے اسٹریٹجک وژن کے ذریعے ان پر روشنی ڈالتی ہیں۔

اس تناظر میں سعودی عرب کی قیادت نے نجران میں "حمیٰ کلچرل زون" کو رجسٹر کرکے اقوام متحدہ کی تعلیمی ، سائنسی اور ثقافتی تنظیم (یونیسکو) کی عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں اس کا اندراج کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

"حمیٰ کلچرل زون " سعودی عرب میں چٹانوں پر نقوش کے آثار قدیمہ کے سب سے بڑے کھلے عجائب گھروں میں سے ایک ہے۔ اس میں سات کنویں شامل ہیں جن میں الحماطہ ، سقیا ، الجناح ، ام نخلہ اور القراین شامل ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی "SPA" کے مطابق ، "حمیٰ" میں ثقافتی ’راک آرٹ ایریا‘ 557 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور اس میں 550 راک پینٹنگز شامل ہیں جن میں سیکڑوں ہزاروں نوشتہ جات اور چٹانوں کی ڈرائنگ شامل ہیں۔ یہ قدیم سفری گذرگاہوں اور تجارتی راستوں میں ایک اہم مقام پر واقع ہے جو جزیرہ نما عرب کے جنوبی حصےمیں شامل ہے۔


حمیٰ سائٹ میں پتھروں پر قدیم تحریروں کے دسیوں ہزار نقوش موجود ہیں۔ ان میں عاد و ثمودی ، نبطیوں ، جنوبی مسند ، شامی اور یونانی نوشتہ جات، ابتدائی عربی نوشتہ جات (قبل از اسلام دور) کے علاوہ جدید عربی خطاطی کے نقوش بھی وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔

حمیٰ کا ’راک آرٹ‘ اور نوشتہ جات تحریری ، فنی اور یہاں تک کہ نسلی تاریخ کی دستاویزات کے لیے ایک قیمتی ذریعہ کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس کا ثبوت وسیع آثار قدیمہ کی باقیات سے ملتا ہے جو نجران کے علاقے میں "حمیٰ " سائٹ پر ٹیلوں ، تنصیبات اور مقبروں کی شکل میں پائے گئے تھے۔ پتھر کے اوزار جیسے کلہاڑی ، کیسل اور پتھر کےاوزاروں کی تیاری کی قدیم ورکشاپس کابھی پتا چلتا ہے۔

بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔