سعودی عرب: حقوق انسانی کی خاتون کارکن لجین الھذلول جیل سے رہا

دسمبر میں عدالت نے لجین الھذلول کو ملک میں سیاسی نظام کو بدلنے اور عوامی نظم و نسق کو نقصان پہنچانے کے مقدمے میں قصوروار قرار دیا گیا تھا اور انہیں زیادہ سے زیادہ چھ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی

لجین الھذلول، تصویر یو این آئی
لجین الھذلول، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

ریاض: سعودی عرب نے خواتین کے حقوق کی سرگرم کارکن لوجین الھذلول کو جیل سے رہا کردیا۔ لجین الھذلول کے اہل خانہ نے گزشتہ روز یہاں ایک بیان میں یہ اطلاع دی ہے۔ ملک میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت دینے کی مہم میں 31 سالہ لجین الھذلول نے اہم رول ادا کیا تھا۔ سال 2018 میں حکام نے ان کو تحویل میں لیا تھا۔ چند ہفتے قبل ہی ان پر عائد الزامات واپس لیے گئے تھے۔

دسمبر میں عدالت نے انہیں ملک میں سیاسی نظام کو بدلنے اور عوامی نظم و نسق کو نقصان پہنچانے کے مقدمے میں قصوروار قرار دیا تھا اور انہیں زیادہ سے زیادہ چھ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، جس کا بیشتر حصہ وہ جیل میں گزار چکی ہیں۔ تاہم، بیان میں ان کے اہل خانہ نے بتایا کہ لجین الھذلول' ابھی تک مکمل طور پر آزاد نہیں ہیں اور انہیں پیروی کے دوران متعدد پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جن میں پانچ سال کی سفری پابندی بھی شامل ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next