دبئی پولیس کے کووِڈ-19 کا سراغ لگانے والے جاسوس کتے!

دبئی پولیس جاسوس کتے
دبئی پولیس جاسوس کتے
user

قومی آوازبیورو

متحدہ عرب امارات میں پولیس کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی نشان دہی کے لیے جاسوس کتے کامیابی استعمال کررہی ہے۔پولیس کے اس وقت 38 جاسوس کتے ہوائی اڈوں پرکام کررہے ہیں اور وہ متاثرہ افراد کی شناخت 98.2 فی صد کامیابی کی شرح سے کرسکتے ہیں۔

دبئی پولیس نے کرونا وائرس کے مریضوں کا سراغ لگانے کے لیے جرمن شیفرڈ، لیبراڈورز، کوکرسپینیلز اور بارڈر کولیز کو تربیت دی ہے۔وہ متاثرہ لوگوں کے پسینے کے نمونوں سے کووڈ-19 کی پہچان کرسکتے ہیں۔ یہ نمونہ چند منٹ میں بغل میں اکٹھے ہونے والے پسینے سے لیاجاتا ہے۔

دبئی کے علاقہ عویرمیں واقع کے 9 ٹریننگ سینٹر میں اس سرغراساں پروگرام کے سپروائزردبئی پولیس کے فرسٹ لیفٹیننٹ ناصرالفلاسی بتاتے ہیں کہ ’’پسینے کی بہت تھوڑی مقدارکوایک جار میں ڈال دیا جاتا ہے۔پھر اس کوکتے کو سونگھایا جاتا ہے جب وہ ہمیں کوئی علامت بتایا ہے تو ہم اسے انعام کی صورت میں ایک ٹریٹ دیتے ہیں۔‘‘

مرکز کے بڑے تربیتی ہال میں پولیس اہلکار کتوں کو دھات کے ڈبوں کےساتھ لے کرچلتے ہیں۔ان میں سے صرف ایک میں مثبت نمونہ ہوتا ہے۔کتےان ڈبوں میں رکھے نمونوں کو سونگھتے ہیں اور چند ہی سیکنڈوں میں بیٹھ کراشارہ کرتے ہیں کہ انھیں کچھ مل گیا ہے۔


کووِڈ-19کی اس سراغرساں ٹیم میں شامل پولیس ٹرینر فاطمہ الجاسمی مشقوں کے ذریعے ایک پرجوش نظر آنے والی سیاہ اور سفید بارڈرکولی کی رہنمائی کرتی ہیں۔ان کے بہ قول ان کا یہ تربیت یافتہ کتا ہر مرتبہ درست نشان دہی کرتا ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ یہ تربیت ایک چیلنج تھی۔ پہلے انھوں نے خود بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک نئی مہارت سیکھی اور پھرکتے کو اس کی تربیت دی ہے۔

برطانیہ کے سائنسی جریدے نیچر میں ابلاغی حیاتیات کے حصے میں جون میں دبئی میں کتوں کی سراغرسانی پرایک سال تک ہونے والی اس تحقیق کو شائع کیا گیا ہے۔اس کے نتائج کے مطابق سراغرساں کتے 98.2 فی صد کامیابی کی شرح کے ساتھ کووِڈ-19 سے متاثرہ افراد کی نشان دہی کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

اس تحقیق میں کتوں کا سراغ لگانے کی صلاحیت کی جانچ اورموازنے کے لیے 3290 افراد کے پسینے کے نمونے حاصل کیے گئے اور ساتھ ان کا پی سی آر ٹیسٹ کیا گیا۔پھر اس نمونے اور ٹیسٹ کے نتائج کا آپس میں موازنہ کیا گیا ہے۔


فن لینڈ، امریکا اور فرانس سمیت کئی دیگر ممالک بھی اپنے ہاں کووِڈ-19 کے مریضوں کا سراغ لگانے کے لیے کتوں کو تربیت دے رہے ہیں اور ان کے سونگھنے کے نتائج کی جانچ کررہے ہیں۔

فلاسی نے بتایا کہ کتے اس وقت ہوائی اڈوں پرایک دن میں قریباً تیس سے چالیس ٹیسٹ کرتے ہیں۔ انھوں نے سیاہ اور بھورے رنگ کے بولٹ نامی بیلجیئن مالینوئس کو کووِڈ-19 کی سراغ رسانی کی تربیت دی تھی۔فلاسی نے بتایا کہ اس کتے نے شاید 1000 سے زیادہ کووِڈ-19 کے ٹیسٹ کیے ہیں۔

فی الوقت تو کتوں کو متحدہ عرب امارات کے ہوائی اڈوں پر کروناوائرس سے متاثرہ افراد کی نشان دہی کے لیے استعمال کیا جارہاہے، لیکن انھیں ملک میں جہاں کہیں اور بھی ضرورت ہو،استعمال کے لیے لے جایا جاسکتا ہے۔

دبئی پولیس کے میجرصلاح خلیفہ المزروئی کا کہنا ہے کہ انھیں دنیا بھرسے کتوں کو کووِڈ-19 سے متاثرہ افراد کو سونگھنے کی تربیت دینے کے بارے میں معلومات کے تبادلے سے متعلق درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

دبئی پولیس کے پاس منشیات اوردھماکا خیزمواد کو سونگھنے کے لیے بھی تربیت یافتہ کتے موجود ہیں۔اس امارت میں آیندہ ماہ دبئی ایکسپو 2020ء کی جگہ پر ان تربیت یافتہ جاسوس کتوں کو کسی بھی ممنوعہ مواد کی نشان دہی کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔