منی لانڈرنگ کا آسان طریقہ، دبئی میں انتہائی مہنگی جائیدادیں

دبئی میں انتہائی مہنگی جائیدادیں خریدنا بہت سے مجرموں اور ٹیکس چوروں کے لیے منی لانڈرنگ کا بہت آسان طریقہ بن چکا ہے۔ ایک رپورٹ میں دبئی میں سو ملین ڈالر مالیت کی متعدد مشکوک املاک کا ذکر کیا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی سے منگل بارہ جون کو موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق یو اے ای کی اس امارت میں غیر منقولہ املاک کی قیمتیں انتہائی زیادہ ہیں، جس کی وجہ خلیج کے علاقے میں اس امارت کا مسلسل ایک بہت پسندیدہ اور کامیاب بین الاقوامی تجارتی مرکز بنتا جانا ہے۔

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں قائم ایک ادارے، سینٹر فار ایڈوانسڈ ڈیفنس اسٹڈیز یا C4ADS کی تیار کردہ اس رپورٹ کی بنیاد ان اعداد و شمار کو بنایا گیا ہے، جو دبئی کی شہری ریاست میں املاک کی خرید و فروخت کا کام کرنے والے کئی تجارتی اداروں سے ایک غیر اعلانیہ انداز میں حاصل کیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق یو اے ای کی اس ریاست میں، جہاں آسمان سے باتیں کرتی بلند و بالا عمارات کی کوئی کمی نہیں ہے، لگژری اپارٹمنٹس اور بڑے بڑے محل نما گھروں کی قیمتیں انتہائی زیادہ ہیں۔ لیکن یہی قیمتیں ان لوگوں کے لیے بہت پرکشش بھی ہیں، جو اپنے کالے دھن کو سفید کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں۔

واشنگٹن میں قائم اس دفاعی مطالعاتی مرکز نے اپنی رپورٹ میں دبئی میں کئی ایسی املاک کی نشاندہی بھی کی ہے، جن کی خریداری کو بہت مشکوک کاروباری عمل سمجھا گیا، اور جن کی موجودہ مالیت قریب 100 ملین امریکی ڈالر بنتی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق یہ جائیدادیں جنگوں سے منافع کمانے والے، دہشت گردی کے لیے مالی وسائل مہیا کرنے والے اور منشیات کا کاروبار کرنے والے عناصر سمیت زیادہ تر ایسے افراد نے خریدیں، جو چاہتے تھے کہ ان کے پاس موجود سرمایہ کسی ایسی شکل میں کہیں لگا دیا جائے، جہاں اس کی قدر بھی محفوظ ہو اور بظاہر کسی کو کوئی شبہ بھی نہ ہو۔

متحدہ عرب امارات میں اس طرح کے عناصر کی طرف سے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری اور املاک کی خریداری کے عمل میں اضافے کا ایک بڑا نتیجہ یہ بھی ہے کہ اس امارت میں اس وقت بھی جو بہت زیادہ تعمیراتی کام ہو رہا ہے، اس کا ایک بڑا محرک غیر ملکی سرمایہ کاری اور غیر ملکیوں کی طرف سے مقامی طور پر خریدی جانے والی املاک بھی ہیں۔

اس رپورٹ پر دبئی کی ریاستی حکومت کے میڈیا آفس نے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ C4ADS نے اپنی اس رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ دبئی میں منی لانڈرنگ کرنے والوں کی طرف سے غیر منقولہ املاک میں سرمایہ کاری اس لیے بھی ایک بہت پرکشش عمل ہے کہ وہاں مقامی ضابطوں کی عمومی صورت حال ایسی ہے کہ خریدار اپنی شناخت آسانی سے خفیہ رکھ سکتے ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق ایسی سرمایہ کاری کے ذریعے منی لانڈرنگ کرنے والے افراد دبئی میں، جو متحدہ عرب امارات کا سب سے بڑا شہر بھی ہے، ایسے پرکشش مقامات پر املاک خریدتے ہیں، جہاں دنیا کی بہت سی کروڑ پتی اور ارب پتی شخصیات نے اپنی جائیدادیں بنا رکھی ہیں۔

ان مقامات میں سمندر میں مصنوعی طور پر بنایا گیا مجموعہ جزائر ’پام جمیرہ‘ بھی شامل ہے، دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ بھی اور دبئی کے ایسے کئی دیگر انتہائی مہنگے علاقے بھی، جہاں کسی پرتعیش اپارٹمنٹ کی قیمت کئی کئی ملین امریکی ڈالر ہوتی ہے۔

دبئی میں انتہائی مہنگی املاک خریدنے والے جن افراد کا اس رپورٹ میں نام لے کر ذکر کیا گیا ہے، ان میں خانہ جنگی کے شکار ملک شام کے صدر بشار الاسد کے کزن رامی مخلوف بھی شامل ہیں، جو شام کی امیر ترین کاروباری شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ امریکا نے رامی مخلوف پر، جو شام کی سب سے بڑی موبائل فون کمپنی ’سیریاٹیل‘ کے مالک بھی ہیں، عرصے سے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

متحدہ عرب امارات دبئی سمیت کل سات چھوٹی چھوٹی امارات پر مشتمل ایک وفاقی ریاست ہے۔ ان میں سے سب سے بڑی امارت ابوظہبی ہے، جو تیل کی دولت سے مالا مال ہے اور وہی یو اے ای کا دارالحکومت بھی ہے۔

دبئی میں رامی مخلوف اور رامی ہی کی طرح امریکی پابندیوں کا نشانہ بننے والے ان کے بھائی کی طرف سے خریدی گئی املاک کی مالیت کروڑوں ڈالر بنتی ہے۔ لیکن ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ متحدہ عرب امارات دراصل علاقائی اور بین الاقوامی سیاست میں جنگ زدہ شام کے صدر اسد کا بہت بڑا ناقد بھی ہے۔

دبئی اور متحدہ عرب امارات کی دیگر ریاستوں میں بہت سے پاکستانی شہریوں نے بھی انتہائی بیش قیمت املاک خرید رکھی ہیں۔

سب سے زیادہ مقبول