کیا قطر بھی اسرائیل سے ’امن معاہدہ‘ کرنے جا رہا ہے؟

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے سے متعلق قطر کی طرف سے مثبت ردعمل سامنے آیا ہے اور وہ اس معاملہ میں ’کھلے پن‘ کا مظاہرہ کرے گا۔

کیا قطر بھی اسرائیل سے ’امن معاہدہ‘ کرے گا؟
کیا قطر بھی اسرائیل سے ’امن معاہدہ‘ کرے گا؟
user

قومی آوازبیورو

واشنگٹن: عرب ممالک میں اسرائیل کے ساتھ ’امن معاہدہ‘ پر دستخط کرنے کا رجحان زور پکڑ رہا ہے۔ سب سے پہلے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے اسرائیل کے ساتھ معاہدہ پر دستخط کئے، اس کے بحرین نے بھی دستخط کر دئے اور اب امریکہ کا کہنا ہے کہ قطر نے امن معاہدہ پر مثبت رد عمل ظاہر کیا ہے اور وہ اس معاملہ میں ’کھلے پن‘ کا مظاہرہ کرے گا۔

عرب کے خبر رساں ادارے العربیہ ڈاٹ نیٹ میں شائع رپورٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے سے متعلق قطر کی طرف سے مثبت ردعمل سامنے آیا ہے۔ خلیجی امور کے لیے امریکی نائب معاون وزیر خارجہ نے جمعرات کے روز انکشاف کیا کہ قطر نے اسرائیل کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں کھلے پن کا مظاہرہ کرے گا۔

تیمتھیس لنڈرنگ نے فون کے ذریعہ پریس بریفنگ میں کہا کہ قطر کی اسرائیل کے ساتھ مفاہمانہ کوششوں کی ایک تاریخ ہے اور دوحہ اسرائیل کے ساتھ اعلانیہ بعض معاملات ڈیلنگ کرتا رہا ہے۔ قطری سفیر محمد العمادی غزہ کی پٹی کے متواتر دوروں کے لیے جانے جاتے ہیں جہاں وہ اس شعبے میں تحریک کے رہنما یحییٰ اسنوار سے مل کر مشترکہ منصوبوں میں ہم آہنگی اور اسرائیل کے توسط سے قطری فنڈز وصول کرتے ہیں۔

پچھلے ماہ اگست میں العمادی نے کہا تھا کہ ہم غزہ پر اسرائیل کے ساتھ بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی پر تل ابیب کے ساتھ اعلی سطح پر رابطے ہو رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کی اطلاع کے بعد یہ معلوم ہوا ہے کہ اسرائیلی فوج موساد اور شن بیٹ (جنرل سیکیورٹی سروس) کے ایک سکیورٹی وفد نے قطری حکام سے غزہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے دوحہ کا دورہ کیا۔

قابل ذکر ہے کہ متحدہ عرب امارات نے منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ معاہدے پر دستخط کے بعد اماراتی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امارات فلسطینیوں‌ کی مدد اور ان کے حق خود ارادیت کی حمایت کا پابند ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سینیر امریکی سرکاری عہدیداروں اور متحدہ عرب امارات، بحرین اور اسرائیل کے وفود کی موجودگی میں دونوں امن معاہدوں پر دستخط کے لیے ایک تقریب کی میزبانی کی۔ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ الشیخ عبد اللہ بن زاید اور عبد اللطیف الزیانی نے اپنے ملکوں‌ جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے اپنے ملک کی طرف سے نمائندگی کی۔

    Published: 18 Sep 2020, 10:11 AM
    پسندیدہ ترین
    next